جسمانی طور پر کمزور بچوں کی اموات روکنا ممکن: ڈبلیو ایچ او چیف
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ 900 بچے مناسب خوراک اور دیکھ بھال سے محرومی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ 900 بچے مناسب خوراک اور دیکھ بھال سے محرومی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی سربراہ کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ جنگوں، بڑھتی ہوئی غربت اور موسمیاتی تبدیلی سے بچوں کے لیے خطرہ بڑھ رہا ہے جس پر قابو پانے کے لیے ان کے حقوق برقرار رکھنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے غیرمعمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ معدنی ایندھن کی صورت میں موسمیاتی بحران کی زہریلی جڑ کو اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی جنگجوؤں کی لڑائی میں جتنی بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں اس کی حالیہ برسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
انڈیا میں ختم ہونے والا کرکٹ کا عالمی کپ سنسنی خیز مقابلوں کے علاوہ مقامی بچوں کے لیے ایسے دلچسپ مواقع بھی لایا جن کی بدولت انہیں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں سے کھیل کے گُر سیکھنے کے ساتھ لڑکیوں اور لڑکوں کے مساوی حقوق سے بھی آگاہی ملی ہے۔
غزہ کے الشفا ہسپتال سے 31 نومولود بچوں کو عالمی ادارہ صحت کی مدد سے محفوط جگہوں پر پہنچا دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ علاقے میں لوگوں کی مدد کے لیے جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے۔
آج ٹوائلٹ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر دنیا بھر میں صاف پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی تک رسائی بڑھانے کے لیے بہت سے اختراعی اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
غزہ میں دو سکولوں پر حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد پناہ گزین ہلاک ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے علاقے کی 23 لاکھ آبادی کو سنگین طبی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایندھن کی غیرمشروط اور باقاعدہ فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس نے کہا ہے کہ غزہ کا بحران روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے جسے روکا نہ گیا تو یہ آگ خطے بھر میں پھیل سکتی ہے۔
پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف بین الاقوامی معاہدے کے لیے مذاکرات کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں جاری ہیں۔ اس دوران معاہدے کے ابتدائی مسودے پر غور کیا جا رہا ہے جسے آئندہ برس حتمی شکل دی جائے گی۔