غزہ: یو این اداروں کی خواتین و بچوں کے لیے ہنگامی امدادی اپیل
اقوام متحدہ کے تین اداروں کی سربراہوں نے غزہ کی جنگ میں خواتین اور بچوں کی حفاطت کے لیے اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے تین اداروں کی سربراہوں نے غزہ کی جنگ میں خواتین اور بچوں کی حفاطت کے لیے اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث کڑے مسائل کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ترقی یافتہ معیشتوں کو مالیاتی و موسمیاتی انصاف ممکن بنانا ہو گا۔
غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے جنرل اسمبلی میں منظور کردہ حالیہ قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے یہ ادارہ عالمی ضمیر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگرچہ جنرل اسمبلی میں کلی اتفاق رائے کبھی نہیں ہوا لیکن جب دو تہائی ارکان کسی بات کے حق میں ہوں تو یہ ہم آہنگی و اتفاق رائے کی قوی علامت اور اس بارے میں طاقتور پیغام ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے حماس کی قید میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اس معاہدے کے مثبت اثرات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے پاکستان سے غیر رجسٹرڈ افغانوں کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عجلت اور خوف میں ملک چھوڑنے والوں کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آئندہ برس پیرس میں ہونے والے اولمپک کھیلوں سے قبل ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان مقابلوں سے پہلے، دوران اور ان کے بعد دنیا بھر میں امن برقرار رکھنے کی قدیم یونانی روایت پر کاربند رہیں۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے بدترین صورت اختیار کرتی موسمیاتی تباہی کے باعث حاملہ خواتین، نومولود اور چھوٹے بچوں کی صحت کو لاحق سنگین خطرات پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے پاکستان سے واپس آنے والے افغانوں کی مدد کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو افغانستان میں غیریقینی مستقبل کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ہر 10 منٹ کے بعد ایک اور روزانہ 160 بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔ علاقے میں بڑے پیمانے پر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں یہ تعداد اس سے کہیں بڑھ سکتی ہے۔
قیامِ امن، شمولیت، معذور افراد کے حقوق اور فروغ تعلیم کے لیے کام کرنے والی 16 سالہ تقویٰ احمد کو پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی پہلی یوتھ ایڈووکیٹ مقرر کیا گیا ہے۔