پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل اور اختراعی طریقوں پر توجہ مرکوز
عالمی رہنماؤں نے 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے ترقی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر اعلیٰ سطحی بات چیت کا آغاز کیا ہے۔
عالمی رہنماؤں نے 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے ترقی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر اعلیٰ سطحی بات چیت کا آغاز کیا ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے کہا ہے کہ ملک کے حکمران انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قیدیوں سے اعتراف جرم کرانے کے لیے تشدد سے کام لے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے موسمیاتی عزائم سے متعلق پہلی کانفرنس کے لیے نیویارک میں جمع منصوبہ ساز اور عملدرآمد کرنے والے سیاست دانوں، کاروباری رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے کہا ہے کہ "ہولناک گرمی ہولناک اثرات مرتب کر رہی ہے۔"
تقریباً 4.5 ارب لوگ یا دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو ضروری طبی خدمات تک خاطر خواہ رسائی نہیں ہے اور رواں ہفتے اقوام متحدہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں عالمی رہنما اور وزرا اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے غوروخوض کریں گے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اپنے ملک کو علاقائی و عالمی سطح پر متحرک شراکت دار کے طور پر پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات لانےکا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے غیرمغربی طاقتوں کے ظہور پر بات کی، سلامتی و معیشت کے شعبوں میں علاقائی شراکتوں کی حوصلہ افزائی کی اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے پر افسوس کا اظہار کیا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ روس جوہری حملے کے خطرات پیدا کرنے کے ساتھ ناصرف یوکرین بلکہ دنیا بھر کے خلاف خوراک اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے معاشی ماہرین نے بتایا ہے کہ اب سے 2030 تک پائیدار ترقی کے پرعزم اہداف کے حصول کی قیمت 5.4 تا 6.4 ٹریلین ڈالر سالانہ ہو سکتی ہے۔
جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے صدر جوزف بائیڈن نے اقوام متحدہ کی اساس علاقائی سالمیت اور انسانی حقوق کا مشترکہ طور پر دفاع کرنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش خبردار کیا ہے کہ دنیا غیر مستحکم ہو رہی ہے جبکہ بہت زیادہ خطرے اور بہت کم اتفاق رائے کے وقت عالمگیر بحران کو حل کرنا ہی اقوام متحدہ کا مقصد ہے۔