انسانی کہانیاں عالمی تناظر

تازہ خبریں

مڈگاسکر کے ایک سکول کے بچے۔
© UNICEF/Rindra Ramasomanana

وباؤں کے تدارک پر معاہدے بارے جھوٹ آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک: ٹیڈروز

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے وباؤں کی روک تھام کے نئے عالمی معاہدے سے متعلق غلط دعووں اور سازشی نظریات کے متواتر پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک فی الوقت اس معاہدے پر بات چیت میں مصروف ہیں۔

ممبئی کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ٹی بی کے مریض کا معائنہ کر رہا ہے۔
© WHO/David Rochkind

احتیاطی تدابیر کے بغیر تپ دق سے 2035 تک قریباً دس لاکھ اموات کا خدشہ

صحت کے شعبے میں اختراع سے متعلق اقوام متحدہ کے اقدام 'یونائیٹ ایڈ' نے خبردار کیا ہے کہ تپ دق کی ایک سے دوسرے فرد کو منتقلی کا کھوج لگانے اور اس مرض کی روک تھام کے اقدامات پر عملدرآمد میں ناکامی کی صورت میں 2035 تک قریباً ایک ملین اموات ہو سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے امن اور سلامتی پر اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
© Unsplash/Steve Johnson

گوتریش کا فاصلے بڑھانے کی بجائے کم کرنے والی مصنوعی ذہانت پر زور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل سے خطاب میں انسانی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے انقلابی نوعیت کی اس نئی ٹیکنالوجی کے نقصان دہ استعمال کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

لندن میں برطانوی پارلیمان کی تاریخی عمارت۔
© Unsplash/Heidi Fin

مجوزہ برطانوی قانون پناہ گزینوں کے تحفظ کی نفی ہے، یو این ادارے

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' کے سربراہوں نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی پارلیمان کا منظور کردہ قانون بین الاقوامی انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے قانون کے تحت ملکی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

نیلسن منڈیلا نے سمتبر 2004 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔
UN Photo

نیلسن منڈیلا جرات اور عزم کا پہاڑ تھے: انتونیو گوتیرش

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش نے نیلسن مینڈیلا کی یاد میں ہر سال منائے جانے والے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ رہنما کی حیثیت سے ان کی شخصیت بے پایاں کامیابی اور غیرمعمولی انسانیت سے عبارت تھی۔

اردن کے ایک آئی ٹی سنٹر میں زیر تربیت نوجوان خواتین۔
© UNICEF/Thaulow

خواتین کی اکثریت وسیع صنفی تفاوت کے حامل ممالک میں رہتی ہے: رپورٹ

صنفی مساوات اور بین الاقوامی ترقی کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے شائع کردہ ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں خواتین کی کم اختیاری اور بڑے پیمانے پر صنفی فرق عام ہے۔