انسانی صحت پر ہونے والی ترقی کو خطرہ: یو این چیف
75 سال پہلے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے قیام کے بعد دنیا بھر میں اوسط عمر 50 فیصد تک بڑھی ہے لیکن کووڈ، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کے باعث یہ "پیش رفت خطرے سے دوچار ہے"۔
75 سال پہلے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے قیام کے بعد دنیا بھر میں اوسط عمر 50 فیصد تک بڑھی ہے لیکن کووڈ، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کے باعث یہ "پیش رفت خطرے سے دوچار ہے"۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ دنیا عالمگیر قیادت اور یکجہتی کے لئے صنعتی طور پر ترقی یافتہ جمہوریتوں کے بلاک جی7 کی جانب دیکھ رہی ہے۔
ایران میں گزشتہ سال نومبر میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر حکومتی ردعمل کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہرین نے کہا ہے کہ اسے مظاہرین کو سزائے موت دیے جانے پر "گہری تشویش" ہے۔
اقوام متحدہ کے طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کئی سال تک ہیضے کے پھیلاؤ میں متواتر کمی کے بعد اب اس میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا میں انتہائی بدحال لوگ اس بیماری کے نشانے پر ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی سالانہ اموات میں سے تین چوتھائی کا سبب غیرمتعدی بیماریاں یا 'این سی ڈی' ہیں۔
سوڈان میں شدید لڑائی جاری ہے اور اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ لوگ جان بچانے کے لئے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے نمائندے فران ایکویزا نے کہا ہے کہ ملک میں اندازاً 90 فیصد آبادی غربت کے دھانے پر ہے اور "اس کا خمیازہ بچے بھگت رہے ہیں۔"
اقوام متحدہ میں تخفیف اسلحہ کے شعبے کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے خلاف روس کا بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہونے سے قریباً 15 ماہ بعد شہری "ناقابل برداشت معمول" میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جنہیں تشویش ناک حد تک تباہی اور نقصان کا سامنا ہے۔
عراق میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ سکڑتی شہری آزادیوں، انتخابات کے التوا اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال کے ہوتے ہوئے ملک کے استحکام اور کڑی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لئے مؤثر تعاون درکار ہے۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ قدرتی آفات کے خطرے سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کمزور اور ناکافی ہے جس سے 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کا مقصد خطرے میں ہے۔