مذہبی رہنماؤں اور یو این نے کی امن کی مشترکہ دعا
آج دنیا میں پائی جانے والی ہولناک تقسیم کے وقت متعدد عقائد کے رہنما جمعے کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہوئے اور امن کے لیے دعا کی۔
آج دنیا میں پائی جانے والی ہولناک تقسیم کے وقت متعدد عقائد کے رہنما جمعے کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہوئے اور امن کے لیے دعا کی۔
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں حجاب سے متعلق قوانین کے جابرانہ نفاذ کا نتیجہ ملک میں حجاب اوڑھنے کے لازمی قوانین کی پابندی نہ کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تادیبی و تعزیری اقدامات کی صورت میں نکلے گا۔
یمن کی طویل جنگ میں قیدیوں کا ایک بڑا تبادلہ جمعے کو شروع ہو گیا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈ برگ نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ زدہ ملک کے پُرامن مستقبل کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
بدھ کو ٹورنٹو میں ایک اور خصوصی پرواز کی آمد کے بعد عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے تعاون سے کینیڈا میں 30 ہزار سے زیادہ افغان مہاجرین کی کامیاب نوآبادکاری مکمل ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے کہا ہے کہ وسطی بحیرہ روم کے خطرناک راستے سے یورپ کو جانے والے تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث زندگیاں بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی جبری الحاق اور فلسطینیوں کی بیدخلی کی پالیسی کے خلاف فوری کارروائی کرے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ غذائی اور زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو صنفی اعتبار سے یکساں مواقع دیے جانے سے ترقی اور لاکھوں لوگوں کو خوراک کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے پائیدار امن اور استحکام کی راہ پر صومالیہ کی مدد کرنے کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اس سال جنوری اور مارچ کے درمیان وسطی بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش میں 400 مہاجرین کی موت واقع ہو چکی ہے اور اس طرح 2017 کے بعد یہ اس حوالے سے مہلک ترین سہ ماہی بن گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں میں جکڑے ترقی پذیر ممالک عالمی ترقی میں سست روی، بلند شرح سود اور سرمایہ کاری میں کمی کے باعث سالہا سال تک معاشی تکالیف کا سامنا کر سکتے ہیں۔