انسانی حقوق کونسل کا بچوں پر آن لائن بدسلوکی کے اثرات کا جائزہ
بچوں کے ساتھ آن لائن بدسلوکی کا نتیجہ اندیشے اور جذباتی پریشانی کی صورت میں نکلتا ہے اور ایسے واقعات کے متاثرین خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ آن لائن بدسلوکی کا نتیجہ اندیشے اور جذباتی پریشانی کی صورت میں نکلتا ہے اور ایسے واقعات کے متاثرین خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ عام مباحثہ منگل کو ختم ہوا۔ اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے کہا کہ ادارہ جاتی مسائل کے باجود اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشکلات کا اجتماعی حل نکالنے کے لیے اہم ترین پلیٹ فارم ہے۔
انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں سالانہ اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی نظام متنوع ہے جس میں اختلاف رائے کا احترام کرنا ہوگا۔
متحدہ عرب امارات کی بین الاقوامی تعاون کی وزیر مملکت ریم بنت ابراہیم الہاشمی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، انتہا پسندی، نسل پرستی اور نفرت انگیزی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تمام ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کرتے ہوئے طاقت کے استعمال سے گریز اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤرو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید استعماری اقلیت اور دہائیوں پر محیط مغربی بالادستی کے خاتمے کی خواہاں عالمگیر اکثریت کے مابین کشمکش سے ایک نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ کا راستہ ترک کر کے پائیدار امن کی راہ پر چلیں اور اپنے لوگوں اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین نے 2030 تک تپ دق (ٹی بی) کا خاتمہ کرنے کی کوششیں آگے بڑھانے کے لیے اعلامیے کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ آج دنیا کو تاریخی امن، خوشحالی اور اس سے جنم لینے والی امید یا دہشت گردی کی جنگ اور مایوسی کی ہولناک لعنت میں سے ایک انتخاب درپیش ہے۔
پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مجوزہ اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے ادارے کی ساکھ اور حیثیت متاثر ہوگی اور تجویز دی کہ اس کی بجائے غیر مستقل ارکان کی تعداد اور مدت میں اضافہ کرنا مناسب رہے گا۔