کانفرنس برائے مستقبل اعتماد سازی کا ’سنہری موقع‘ ہوگا: گوتیرش
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے موثر سفارت کاری کا خاتمہ ہو جانے سے متعلق اندازوں کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے موثر سفارت کاری کا خاتمہ ہو جانے سے متعلق اندازوں کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اپنے ملک کو علاقائی و عالمی سطح پر متحرک شراکت دار کے طور پر پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات لانےکا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے غیرمغربی طاقتوں کے ظہور پر بات کی، سلامتی و معیشت کے شعبوں میں علاقائی شراکتوں کی حوصلہ افزائی کی اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے پر افسوس کا اظہار کیا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ روس جوہری حملے کے خطرات پیدا کرنے کے ساتھ ناصرف یوکرین بلکہ دنیا بھر کے خلاف خوراک اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے صدر جوزف بائیڈن نے اقوام متحدہ کی اساس علاقائی سالمیت اور انسانی حقوق کا مشترکہ طور پر دفاع کرنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش خبردار کیا ہے کہ دنیا غیر مستحکم ہو رہی ہے جبکہ بہت زیادہ خطرے اور بہت کم اتفاق رائے کے وقت عالمگیر بحران کو حل کرنا ہی اقوام متحدہ کا مقصد ہے۔
دنیا کے کئی نمایاں رہنما آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے جبکہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں خاص طور پر پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت کے لیے کیا طے پاتا ہے۔
یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ کہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی شرکت یا عدم شرکت سے زیادہ اہم یہ یقینی بنانا ہے کہ رکن ممالک کے نمائندے پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق ضروری وعدے کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ بدقسمتی سے ان اہداف کی جانب درست سمت میں پیش رفت نہ ہونا ایک حقیقت ہے۔
عملی میدان میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے کام کرتے ہوئے اور مستقبل پر توجہ مرکوز کر کے اقوام متحدہ کے لوگ اپنے ہاں ترتیب نو میں مصروف ہیں جس کی بدولت اس کے ادارے مزید مستعد، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اور پُراثر ہو جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے آئندہ ہفتے نیویارک میں اکٹھے ہونے والے عالمی رہنماؤں کو واضح پیغام دیا ہے کہ یہ دکھاوے کے اقدامات یا بہانے بازی کا وقت نہیں ہے۔