اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امید کا چراغ، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلا سے وابستہ مسائل پرعزم اور کثیر فریقی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلا سے وابستہ مسائل پرعزم اور کثیر فریقی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (انرا) کے خلاف اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کردہ قوانین امدادی کارروائیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔
لبنان میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا مشن (یونیفیل) 'بلیو لائن' پر کام کر رہا ہے جو 1970 کے بعد لبنان اور اسرائیل کی عارضی سرحد بھی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں اس مشن کی ذمہ داریوں میں ایک اور سال کے لیے توسیع کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور خطے بھر کے لوگوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
قیام امن کے امور پر اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ژاں پیئر لاکواء نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بلیو لائن پر اقوام متحدہ کے امن اہلکار بدستور موجود رہیں گے اور جب تک حالات نے اجازت دی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور شیخ شخبوط نہیان النہیان نے عالمی مسائل پر قابو پانے کے لیے کثیرفریقی نظام کو مضبوط اور دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
شام کے وزیر خارجہ بسام سباغ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی بڑے پیمانے پر بلاروک و ٹوک جارحیت سے مشرق وسطیٰ خطرناک کشیدگی کا شکار ہو رہا ہے جس کے پوری دنیا میں امن و سلامتی کے لیے ناقابل تصور نتائج برآمد ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہیٹی میں کثیرملکی سکیورٹی سپورٹ مشن (ایم ایس ایس) کی مزید 12 ماہ کے لیے تعیناتی کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ کینیا کی قیادت میں یہ مشن ملکی پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت فراہم کرے گا۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا ہے کہ دنیا میں بحران بڑھتے جا رہے ہیں اور عالمی برادری ان کے ٹھوس حل نکالنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہے۔
انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ جنگوں، تقسیم، غیرمنصفانہ تجارت، موسمیاتی تبدیلی اور غذائی و طبی عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل کا شکار دنیا میں بہتری لانے کے لیے تمام ممالک کو اقوام متحدہ میں سنجیدہ اور بامقصد کردار ادا کرنا ہو گا۔