انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فلٹر کریں

پائیدار ترقی کے اہداف

خشک سالی سے متاثرہ کینیا کے شمالی حصے میں پانی کے حصول کے لیے خواتین کو دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
© WFP/Alessandro Abbonizio

خشک سالی و بنجرپن سے خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں

بنجرپن اور خشک سالی کے خلاف 17 جون کو منائے جانے والے عالمی دن سے متعلق کینیا سے ویت نام تک ہونے والی تقریبات میں خواتین کے زمینی ملکیتی حقوق کی جانب توجہ دلائی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا بھی یہی موضوع تھا۔

شہروں میں سبزہ حیاتیاتی تنوع، موسم، ہوا، اور مکینوں کی مجموعی بہتری پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔
© Unsplash/Nerea Martí Sesarin

ماحول دوست مستقبل میں شہروں کا کردار اہم: گوتیرش

اقوام متحدہ کی مساکن اسمبلی کے نام ویڈیو پیغام میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ مستحکم مستقبل کے لئے جدوجہد میں شہر "اہم میدان عمل" کی حیثیت رکھتے ہیں اور کثیرفریقی طریقہ کار سے سبھی کو فائدہ پہنچانے میں ان کا کردار پہلے سے کہیں اہم ہے۔

پلاسٹک، مصنوعی لکڑی، کاغذ، دھات اور دوسرا کچرا دنیا بھر میں ساحلوں اور سمندروں کی گہرائی میں عام دیکھنے کو ملتا ہے۔
UN News/Laura Quiñones

پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے دنیا یکجا ہو جائے: گوتیرش

بین الاقوامی مذاکرات کار پلاسٹک کی آلودگی پر قابو پانے کے لئے نومبر تک ایک معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لئے پُرعزم ہیں جبکہ عالمی یوم ماحولیات پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پلاسٹک کے کچرے کے "تباہ کن" نتائج پر قابو پانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

گیمبیا میں اساتو، ماریامہ، اور فاطوماتا کو اب ماہواری کے دوران سکول سے چھٹی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یو این ایف پی اے نے انہیں اور ان جیسی کئی بچیوں کو سینٹری پیڈ اور حیضی حفظان صحت کی دوسری مصنوعات مفت فراہم کی ہیں۔
© UNFPA The Gambia

حیضی حفظان صحت کے دن ماہواری سے متعلق غربت ختم کرنے کا عہد

گیمبیا کی فاطوماتا فیتی کو برسات میں پرانی اور خراب وہیل چیئر پر سفر میں دو گھنٹے لگتے ہیں مگر وہ سینیٹری پیڈ بنانے والے مرکز میں اپنی ساتھی کارکنوں سے مل کر خوش ہیں جہاں انہیں ایسی چیزیں بنانے پر فخر ہے جن سے خواتین کو "حیض کی غربت" پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

آسٹریلیا کی جین کونرز اقوام متحدہ میں جنسی استحصال کے متاثرین کی پہلی ایڈووکیٹ ہیں۔
UN News

انٹرویو: حصول انصاف میں جنسی استحصال کے شکار افراد کی مشکلات

ناقدین کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی استحصال اور بدسلوکی پر انصاف تاخیر سے ملتا ہے اور ذمہ داروں کا ہمیشہ احتساب نہیں ہوتا۔ ایسے متاثرین کے حقوق کی وکیل جین کونرز ادارے کے 35 سے زیادہ شعبوں میں متاثرین پر مرتکز حکمت عملی لاگو کر رہی ہیں۔