عالمی شہر کاری فورم: جنگ زدہ علاقوں میں بحالی کی کوششوں پر زور
مصر میں جاری 'عالمی شہری فورم' میں جنگ زدہ گنجان آباد علاقوں میں لوگوں کو تحفظ، رہائش اور بنیادی خدمات کی فراہمی اور تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی بحالی کے لیے منظم کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔
مصر میں جاری 'عالمی شہری فورم' میں جنگ زدہ گنجان آباد علاقوں میں لوگوں کو تحفظ، رہائش اور بنیادی خدمات کی فراہمی اور تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی بحالی کے لیے منظم کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔
دنیا اس وقت غیر معمولی حرارت کا سامنا کر رہی ہے اور اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ سال 2024 گزشتہ سال کے ریکارڈ کو توڑ کر دنیا کے لئے گرم ترین سال بن جائے۔ یہ نئے اعداد و شمار عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے COP29 کانفرنس سے قبل جاری کئے ہیں جو باکو آذربائیجان میں منعقد ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کے ماحول، لوگوں کی زندگی اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ممالک کو اس سے مطابقت اختیار کرنے کے لیے بہرصورت ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جاری عالمی شہر کاری فورم کے شرکا نے شہری منصوبہ بندی میں خواتین اور لڑکیوں کی بامعنی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ شہر سبھی کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تواتر سے خطرناک بیماریاں پھیلانے والے 17 اقسام کے ایسے بیکٹیریا، وائرس اور طفیلیوں کی نشاندہی کی ہے جن کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر ویکسین تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا کی دو ارب سے زیادہ آبادی ایسے شہروں میں رہتی ہے جہاں 2040 تک درجہ حرارت میں 0.5 ڈگری سیلسیئس تک اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کا نتیجہ تباہ کن موسمی آفات کی صورت میں سامنے آئے گا۔
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر سب سے بڑی عالمی کانفرنس (کاپ 16) کولمبیا میں ختم ہو گئی ہے جس میں فطری جینیاتی معلومات اور افریقی النسل و قدیمی مقامی لوگوں کو ماحول کے محافظوں کی حیثیت سے تسلیم کیے جانے سمیت کئی تاریخی معاہدے طے پائے ہیں۔
دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور شہر پھیلتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں شہری ماحول کو لوگوں کے لیے مستحکم اور محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ ان سوالات کا جواب 12ویں عالمی شہری فورم (ڈبلیو یو ایف) میں ملے گا جو 4 تا 8 نومبر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہو رہا ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور یورپی یونین کے تعاون سے چلائے جانے والے تعلیمی پروگرام کی بدولت سکولوں کے انتظام اور تدریسی عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے جس سے 55 ہزار سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچا۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے بتایا ہے کہ تعلیم کے میدان میں کئی دہائیوں سے ہونے والی ترقی اور اس کے لیے عالمی وعدوں کے باوجود 25 کروڑ سے زیادہ بچے اور نوعمر افراد سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔