عالمی غذائی تحفظ پائیدار اور ہمہ گیر زراعت سے مشروط، ایف اے او چیف
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ دنیا کو خوراک کی فراہمی کے لیے مزید موثر، مشمولہ، مضبوط اور پائیدار زرعی غذائی نظام درکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ دنیا کو خوراک کی فراہمی کے لیے مزید موثر، مشمولہ، مضبوط اور پائیدار زرعی غذائی نظام درکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا سے بھوک کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے غذائی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کی بڑی تعداد کو مالی تعاون سے لے کر صحت اور پینشن تک سماجی تحفظ کی بہت سی خدمات تک رسائی نہیں ہے جس کے باعث وہ غربت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے معروف اداکارہ صبا قمر کو پاکستان میں بچوں کے حقوق کی پہلی قومی سفیر مقرر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں لڑکیاں موسمیاتی بحران، جنگوں اور غربت سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ انہیں اپنی پوری صلاحیتوں سے کام لینے اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری اور تقسیم پر مزید سرمایہ کاری کی بدولت جراثیم کش ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت (اے ایم آر) سے ہونے والی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔
بچوں کے خلاف تشدد کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نمائندہ خصوصی نجات مالا مجید نے کہا ہے کہ دنیا میں ایک ارب بچے کئی طرح کے تشدد، استحصال اور بدسلوکی کا سامنا کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں 10 تا 19 سال عمر کا ہر سات میں سے ایک بچہ ذہنی مسائل کا شکار ہے جن میں اعصابی خلل، ذہنی دباؤ اور اختلال نمایاں ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے ٹیکنالوجی امن دیپ سنگھ گِل نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے اور اس کی نگرانی حوالے سے عالمی سطح پر مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے درپیش خطرات پر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جا سکے۔
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 2023 گزشتہ تین دہائیوں کا خشک ترین سال تھا جب دریاؤں میں پانی کی مقدار میں غیرمعمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔