جانیے ماحول دوست توانائی کی معدنیات اور ان سے جُڑی آلودگی بارے
اگر دنیا معدنی ایندھن کا استعمال ترک کر دے تو ہمیں کمیاب معدنیات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہو گی جو ونڈ ٹربائن اور سولر پلانٹ جیسے توانائی کے قابل تجدید ذرائع میں استعمال ہوتی ہیں۔
اگر دنیا معدنی ایندھن کا استعمال ترک کر دے تو ہمیں کمیاب معدنیات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہو گی جو ونڈ ٹربائن اور سولر پلانٹ جیسے توانائی کے قابل تجدید ذرائع میں استعمال ہوتی ہیں۔
ہر دو برس کے بعد اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کرہ ارض کو درپیش اہم ماحولیاتی مسائل پر اکٹھے ہو کر بات چیت کرتے ہیں۔ اسے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی (یو این ای اے) کہا جاتا ہے جس کا چھٹا اجلاس 26 فروری سے کینیا میں شروع ہو رہا ہے۔
ایشیا الکاہل خطے میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی جانب پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور موجودہ رفتار سے یہ مقاصد 2062 سے پہلے حاصل نہیں ہو پائیں گے۔
اقوام متحدہ ترقی پذیر ممالک کو ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے رہا ہے۔ مڈغاسکر میں ایسے ہی ایک امید افزا اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ ماحول دوست ذرائع سے بجلی پیدا کر کے لوگوں کی زندگیوں میں کس قدر بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ جے محمد نے کہا ہے کہ کام کے حالات میں بہتری لانے کے لیے تمام ممالک کو تمام لوگوں کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو دقیانوسی بین الاقوامی اداروں اور معاہدوں میں اصلاحات کی کوششوں کے لیے آگے آنا ہو گا۔
دنیا کی معاشی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق 2024 میں عالمگیر شرح نمو 2.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جو 2023 میں 2.7 فیصد تھی۔