افیون کی کاشت میں میانمار افغانستان پر سبقت لے گیا
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ افغانستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے میانمار اب دنیا میں افیون پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ افغانستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے میانمار اب دنیا میں افیون پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔
کاپ 28' کی حتمی دستاویز کے ابتدائی مسودے میں معدنی ایندھن کا استعمال فوری ختم کرنے کی بات شامل نہیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ ممالک اور سول سوسائٹی اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 'کاپ 28' میں معدنی ایندھن کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے معاہدے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نظریں چرانے کا وقت نہیں رہا۔
دبئی میں 'کاپ 28' کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے زرعی غذائی نظام کو تبدیل کرنے کا غیرمعمولی منصوبہ پیش کیا ہے جس پر عملدرآمد کی صورت میں 2050 تک دنیا میں اس نظام سے کاربن کا اخراج بند ہو جائے گا۔
حقِ تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار فریدہ شہید نے کہا ہے کہ 2030 تک تمام بچوں کے لیے ابتدائی اور ثانوی درجے کی تعلیم یقینی بنانے کا ہدف اساتذہ کے حالات کار میں بہتری اور تعلیمی مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی پر کانفرنس 'کاپ 28' میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی انصاف پر مبنی اقدامات ضروری ہیں اور انہیں نقصان و تباہی کے فنڈ سے مالی وسائل کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے (یو این ای پی) نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا ہر سال ایسی سرگرمیوں پر 7 ٹریلین ڈالر خرچ کرتی ہے جن سے فطرت کو نقصان ہوتا ہے جبکہ فطرت دوست سرمایہ کاری کا سالانہ حجم اس سے کہیں کم ہے۔
دبئی میں جاری 'کاپ 28' میں نوجوان ماحولیاتی کارکنوں نے حکومتوں کے پالیسی سازوں سےمطالبہ کیا ہے کہ دنیا کے 2 ارب بچوں کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے جن کی آوازیں اور خیالات دنیا کو تباہی سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
دبئی میں 'کاپ 28' ایک روزہ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ کانفرنس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے اہداف حاصل کرنے اور معدنی ایندھن کے مستقبل پر مذاکرات جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ ہر سال کم از کم 4 کروڑ خواتین کو بچوں کی پیدائش کے باعث ایسے طبی مسائل لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جن کے اثرات طویل مدت تک قائم رہتے ہیں۔