انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پائیدار ترقی کے اہداف

خصوصی نمائندہ اور عراق کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ای آئی) کی سربراہ جینین ہینز پلاشرٹ سلامتی کونسل کو عراق کی صورتحال بارے بریفنگ دے رہی ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe

عراق: کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے مؤثر تعاون درکار

عراق میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ سکڑتی شہری آزادیوں، انتخابات کے التوا اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال کے ہوتے ہوئے ملک کے استحکام اور کڑی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لئے مؤثر تعاون درکار ہے۔

ترکیہ کے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں ایک تباہ حال عمارت
© UNOCHA/Matteo Minasi

قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عمل ناکافی اور کمزور

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ قدرتی آفات کے خطرے سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کمزور اور ناکافی ہے جس سے 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کا مقصد خطرے میں ہے۔

برونڈی کے علاقے گٹومبا میں غیر معمولی بارشوں کے بعد کا منظر۔
© UNICEF/Karel Prinsloo

عالمی درجہ حرارت آئندہ 5 سالوں میں ریکارڈ توڑ ہوگا

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق حرارت جذب کرنے والی گرین ہاؤس گیسوں اور قدرتی طور پر آنے والی ال نینو موسمی کیفیت کے باعث آئندہ پانچ سال میں عالمی درجہ حرارت غیرمعمولی طور پر بڑھ جائے گا۔

انڈونیشیا کی ایک طبی لیب کے کنٹرول روم میں نرس مصروف عمل ہے۔
© Unsplash/Irwan

غیر آزمودہ اے آئی آلات سے مریضوں کے نقصان کا خدشہ

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نئے آلات کے بھرپور ممکنہ فوائد کی وجہ سے دنیا میں صحت اور معلومات کے نظام مزید موثر بنانے کے لئے جوش و خروش پایا جاتا ہے لیکن عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے کام لیتے وقت مریضوں کا مناسب تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئیے۔

پلاسٹک، کاغذ، لکڑی، اور دھات کا کچرا دنیا بھر میں ساحلی علاقوں اور آبی حیات کو متاثر کر رہا ہے۔
Unsplash/Naja Bertolt Jensen

پلاسٹک آلودگی میں بھرپور کمی کے لیے یو این کا نیا لائحہ عمل

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ممالک اور کاروباری ادارے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے اور منڈی کو ضرورت کے مطابق ڈھالنے کے لئے موجودہ ٹیکنالوجی سے کام لیں تو 2040 تک پلاسٹک کی آلودگی میں 80 فیصد کمی لانا ممکن ہے۔