انسانی صحت پر ہونے والی ترقی کو خطرہ: یو این چیف
75 سال پہلے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے قیام کے بعد دنیا بھر میں اوسط عمر 50 فیصد تک بڑھی ہے لیکن کووڈ، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کے باعث یہ "پیش رفت خطرے سے دوچار ہے"۔
75 سال پہلے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے قیام کے بعد دنیا بھر میں اوسط عمر 50 فیصد تک بڑھی ہے لیکن کووڈ، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کے باعث یہ "پیش رفت خطرے سے دوچار ہے"۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ دنیا عالمگیر قیادت اور یکجہتی کے لئے صنعتی طور پر ترقی یافتہ جمہوریتوں کے بلاک جی7 کی جانب دیکھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کئی سال تک ہیضے کے پھیلاؤ میں متواتر کمی کے بعد اب اس میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا میں انتہائی بدحال لوگ اس بیماری کے نشانے پر ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی سالانہ اموات میں سے تین چوتھائی کا سبب غیرمتعدی بیماریاں یا 'این سی ڈی' ہیں۔
عراق میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ سکڑتی شہری آزادیوں، انتخابات کے التوا اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال کے ہوتے ہوئے ملک کے استحکام اور کڑی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لئے مؤثر تعاون درکار ہے۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ قدرتی آفات کے خطرے سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کمزور اور ناکافی ہے جس سے 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کا مقصد خطرے میں ہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق حرارت جذب کرنے والی گرین ہاؤس گیسوں اور قدرتی طور پر آنے والی ال نینو موسمی کیفیت کے باعث آئندہ پانچ سال میں عالمی درجہ حرارت غیرمعمولی طور پر بڑھ جائے گا۔
دنیا کی معاشی صورتحال اور امکانات کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ۔19 وباء کے دیرپا اثرات کے باعث عالمی معیشت کی مضبوط انداز میں بحالی کے امکانات کمزور ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نئے آلات کے بھرپور ممکنہ فوائد کی وجہ سے دنیا میں صحت اور معلومات کے نظام مزید موثر بنانے کے لئے جوش و خروش پایا جاتا ہے لیکن عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے کام لیتے وقت مریضوں کا مناسب تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئیے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ممالک اور کاروباری ادارے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے اور منڈی کو ضرورت کے مطابق ڈھالنے کے لئے موجودہ ٹیکنالوجی سے کام لیں تو 2040 تک پلاسٹک کی آلودگی میں 80 فیصد کمی لانا ممکن ہے۔