دنیا کی تمام پارلیمان میں پہلی دفعہ خواتین کی نمائندگی
بین الاپارلیمانی یونین (آئی پی یو) نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا کے ہر ملک کی پارلیمان میں خواتین ارکان موجود ہیں۔
بین الاپارلیمانی یونین (آئی پی یو) نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا کے ہر ملک کی پارلیمان میں خواتین ارکان موجود ہیں۔
جمعے کو منائے جانے والے جنگلی حیات کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے اداروں کے رہنماؤں نے معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں اور پودوں کے تحفظ کے لیے دلیرانہ اقدامات اور مزید موثر شراکتوں کے لیے کہا ہے۔
کووڈ۔19 کے زور پکڑنے پر کاروبارِ دنیا بند ہونے کے تین سال بعد اقوام متحدہ اور دیگر شراکت دار قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایسے ممالک کی مدد کے لیے تاریخی اہمیت کا ایک نیا عہد کریں گے جن کی کمزوریاں وباء میں کھل کر سامنے آئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے تمام ممالک سے ہنگامی اپیل کی ہے کہ وہ دنیا کو موجودہ ''تباہ کن پیچیدگیوں'' سے نکالنے کے لیے لوگوں کے ترقی کے حق کی حمایت کریں۔
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں سماجی تحفظ تک رسائی سے محروم بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہیں غربت، بھوک اور امتیازی سلوک کا خطرہ لاحق ہے۔
یو این ایڈز کی سربراہ نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز میں مبتلا لوگوں کے خلاف امتیازی قوانین کی منسوخی سے زندگیوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اور اس وبا خاتمے کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے ایک پالیسی بریف میں کہا ہے کہ اگر عالمی برادری اپنے موجودہ قرض کی تشکیل نو کرے اور مستقبل کے لیے سستے مالی وسائل تک رسائی کو وسعت دے تو ترقی پذیر معیشتیں 148 بلین ڈالر کی بچت کر سکتی ہیں۔
مادری زبان کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ کثیر لسانی تعلیم عدم مساوات کا خاتمہ کرنے اور تمام لوگوں کے لیے انسانی حقوق کو فروغ دینے کی کنجی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 78 ملین لڑکیاں اور لڑکے جنگ، موسمیاتی آفات اور بے گھری کے باعث سرے سے سکول نہیں جاتے جبکہ لاکھوں بچوں کو بے قاعدگی سے ہی تعلیمی مواقع میسر آتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماریوں کے حالیہ پھیلاؤ نے ہر ملک کے لیے اپنے طبی حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت کو واضح کر دیا ہے۔