سلامتی کونسل: غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد امریکہ نے ویٹو کر دی
غزہ میں فوری، غیرمشروط اور مستقل جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 10 غیرمستقل ارکان کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد امریکہ نے ویٹو کر دی ہے۔
غزہ میں فوری، غیرمشروط اور مستقل جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 10 غیرمستقل ارکان کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد امریکہ نے ویٹو کر دی ہے۔
یوکرین میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار میتھائس شمالے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کا ساتھ دے جہاں 1,000 یوم سے جاری روس کے حملوں میں ہزاروں شہری ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو گیا ہے جس کی بحالی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام، سلامتی کونسل اور دیگر اداروں میں اصلاحات لانا ضروری ہے۔
لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مابین لڑائی میں مزید شدت آ گئی ہے جہاں شہریوں کی ہلاکتیں 3,500 سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں بچوں کو درپیش بحران غزہ جیسی صورت اختیار کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور قیام امن و سیاسی امور کے شعبے کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے کہا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کو 1,000 یوم ہو گئے ہیں جہاں لوگوں کو تاحال بڑے پیمانے پر موت، تباہی اور مایوسی کا سامنا ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے بتایا ہے کہ غزہ میں 100 سے زیادہ ٹرکوں پر مشتمل امدادی قافلے کو لوٹ لیا گیا ہے جس سے علاقے میں نظم و نسق کے مکمل خاتمے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین لڑائی کا فوری خاتمہ کرنے اور قومی سطح پر جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد روس نے ویٹو کر دی ہے۔
جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافائل میریانو گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حفاظتی اقدامات اور ان کے بارے میں تصدیق و نگرانی کے دیگر امور پر ٹھوس پیش رفت ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شمالی غزہ سے ایک لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جنہیں بھوک پیاس، تکالیف، مایوسی اور موت کے خطرات کا سامنا ہے۔
لبنان میں اسرائیل کے ساتھ سرحد پر تعینات اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کے امن کاروں کو ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔