کمبوڈیا الیکشن: اپوزیشن پر لگی پابندیوں پر تُرک کا اظہار افسوس
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے حکومت کی جانب سے انتخابی عمل میں کڑی رکاوٹیں عائد کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے حکومت کی جانب سے انتخابی عمل میں کڑی رکاوٹیں عائد کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مذاہب اور ثقافتوں کے مابین مکالمے پر مراکش کی پیش کردہ ایک قرارداد منظور کی ہے جس کا عنوان "نفرت پر مبنی اظہار کے مقابل بین المذاہب اور بین الثقافت مکالمے اور رواداری کا فروغ" ہے۔
سوڈان میں جاری لڑائی کو 100 روز ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ ملک میں اب تک 435 بچے ہلاک اور 2,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے انرا (یو این آر ڈبلیو اے) کو 2 اور 4 جولائی کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے میں جینن مہاجر کیمپ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد مختلف شعبوں میں ہنگامی امدادی اقدامات کے لیے 23.8 ملین ڈالر درکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے یوکرین کے شہر اوڈیسا پر روسی میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ عالمی ثقافتی ورثہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
یمن میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ امدادی عہدیدار نے ملک میں عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے عملے پر حالیہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حملے میں عملے کا ایک رکن ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔
اقوام متحدہ میں سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحیرہ اسود کے ساتھ یوکرین کی بندرگاہوں پر روس کی بمباری سے عالمگیر غذائی تحفظ پر دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عدم استحکام کا شکار دنیا میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے مزید مضبوط کثیرفریقی فریم ورک سے متعلق اپنے تصور پر مبنی ایک نیا پالیسی بریف پیش کیا ہے۔
اپنے ترجمان سٹیفن ڈوجاحک کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے ساتھ باہمی مفاہمت کی یادداشت کے تحت روس کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں۔
عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق بنگلہ دیش کے جنوب میں واقع کیمپوں میں رہنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی ضروری امداد کے لیے اِس وقت فراہم کردہ مالی وسائل ناکافی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ میں غذائی امداد میں دوسری مرتبہ کٹوتی کرنا پڑی ہے۔