جانیے اسرائیل فلسطین بحران کے حل میں اقوام متحدہ کی کوششوں بارے
اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ میں اہم کرداروں سے رابطہ کر کے اور لوگوں کو ہنگامی مدد کی فراہمی کے ذریعے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین بحران میں کمی لانے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ میں اہم کرداروں سے رابطہ کر کے اور لوگوں کو ہنگامی مدد کی فراہمی کے ذریعے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین بحران میں کمی لانے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس ہفتے ہیٹی میں امن و امان کے قیام میں مدد دینے کے لیے کثیرملکی سکیورٹی مشن کی تشکیل پر بات چیت کر رہی ہے۔ غرب الہند کے اس ملک کو جرائم پیشہ مسلح جتھوں کی جانب سے تشدد اور عدم تحفظ کے متواتر بحران کا سامنا ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤرو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید استعماری اقلیت اور دہائیوں پر محیط مغربی بالادستی کے خاتمے کی خواہاں عالمگیر اکثریت کے مابین کشمکش سے ایک نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ آج دنیا کو تاریخی امن، خوشحالی اور اس سے جنم لینے والی امید یا دہشت گردی کی جنگ اور مایوسی کی ہولناک لعنت میں سے ایک انتخاب درپیش ہے۔
فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے تمام جائز قومی حقوق دیے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوسکتا ہے تو وہ غلطی پر ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے موثر سفارت کاری کا خاتمہ ہو جانے سے متعلق اندازوں کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔
امن کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں تناؤ اور تنازعات کا خاتمہ کرنے کے لیے سفارت کاری، بات چیت اور تعاون کے کارآمد ذرائع سے کام لینا ہو گا۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اپنے ملک کو علاقائی و عالمی سطح پر متحرک شراکت دار کے طور پر پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات لانےکا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے غیرمغربی طاقتوں کے ظہور پر بات کی، سلامتی و معیشت کے شعبوں میں علاقائی شراکتوں کی حوصلہ افزائی کی اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے پر افسوس کا اظہار کیا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ روس جوہری حملے کے خطرات پیدا کرنے کے ساتھ ناصرف یوکرین بلکہ دنیا بھر کے خلاف خوراک اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔