انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مہاجرین اور پناہ گزین

پاکستان میں پناہ لیے ہوئے افغان مہاجرین وطن واپس جانے پر مجبور ہیں۔
Asim Khan

پاکستان سے افغانستان واپس آنے والے مہاجرین کو بھوک اور سردی کا سامنا

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ پاکستان سے ملک بدر کیے جانے والے افغان خاندانوں کو ہنگامی مدد کی فراہمی مالی وسائل کی قلت کے باعث غیریقینی کا شکار ہے۔

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck

یو این ایچ سی آر کو پاکستان میں افغان مہاجرین بارے تشویش

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے پاکستان سے غیر رجسٹرڈ افغانوں کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عجلت اور خوف میں ملک چھوڑنے والوں کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔

پاکستان سے واپسی اختیار کرنے والے افغان شہریوں کے لیے طورخم کی سرحد پر عبوری کیمپ بنایا گیا ہے جہاں انہیں بائیومیٹرک جانچ پڑتال کے بعد افغانستان بھیجا جاتا ہے۔
Mehrab Afridi

پاکستان سے لوٹنے والے افغان مہاجرین کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے پاکستان سے واپس آنے والے افغانوں کی مدد کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو افغانستان میں غیریقینی مستقبل کا سامنا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ قانونی دستاویزات کے بغیر ملک میں رہنے والے تمام غیرملکی یکم نومبر تک رضاکارانہ طور پر واپس چلے جائیں،
Mehrab Afridi

افغان مہاجرین کی طبی ضروریات کے لیے دس ملین ڈالر درکار

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ پاکستان سے واپس آنے والے افغان پناہ گزینوں میں بیماریاں پھوٹنے کا خدشہ ہے۔ ادارے نے ایسے سات لاکھ لوگوں کی طبی مدد کے لیے 10 ملین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

15 ستمبر اور 11 نومبر کے درمیانی عرصہ میں 327,000 سے زیادہ لوگ پاکستان سے افغانستان جا چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے گرفتاری کے خوف سے ملک چھوڑا ہے۔
Mehrab Afridi

پاکستان میں افغان مہاجرین کے ساتھ ’بدسلوکی‘ پر تُرک کو تشویش

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے پاکستان سے ملک بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں پناہ لیے افغان خاندان واپسی کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck

ملک بدری: پاکستان بچوں اور خاندانوں کا تحفظ یقینی بنائے، یو این ادارے

پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو واپسی کا حکم دیے جانے کے بعد ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افغان پناہ گزین ملک چھوڑ چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے ملک بدر کیے جانے والے افغان بچوں اور خاندانوں کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گرفتاریوں اور ملک بدری سے بچنے کے لیے بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں افغان خاندان مہاجر کیمپ چھوڑ رہے ہیں۔
Muhammad Faisal

ملک بدری: پاکستان میں افغان مہاجرین مشکل صورتحال سے دوچار

چالیس سالہ رحمان جان چمن کے قندھاری بازار میں پھل سبزیوں کا ٹھیلہ لگاتے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندھار سے ہے۔ وہ اکتوبر 2021 میں ہجرت کرکے پاکستان آئے اور چمن کی بستی حاجی گل شاہ میں رہنے لگے جہاں ان کے چند رشتہ دار تقریباً 35 سال سے مقیم ہیں۔ پچھلے دو سال انہوں نے اس خوف میں گزارے ہیں کہ کہیں انہیں پاکستان سے بے دخل نہ کر دیا جائے اور اب ان کا یہ خدشہ یقین میں بدلنے لگا ہے۔

افغانستان کے علاقے قندھار میں نقل مکانی پر مجبور ایک خاندان اپنا سامان اٹھائے پناہ کی تلاش میں نکلا ہوا ہے۔
© UNOCHA/Sayed Habib Bidel

انسانی حقوق: پاکستان افغان مہاجرین کی ملک بدری معطل کرے

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو واپس بھیجے جانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں 14 لاکھ افغان پناہ گزین غیرمتناسب طور سے متاثر ہوں گے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے نوشہرہ میں گزشتہ سال سیلاب کی وجہ سے افغان مہاجرین کو اپنے کیمپ چھوڑنے پڑے تھے۔
© UNHCR/Usman Ghani

پاکستان افغان مہاجرین کی ملک بدری پر عملدرآمد روک دے، یو این ماہرین

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ 14 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے منصوبوں کو فوری طور پر منسوخ کرے جنہیں اپنے ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کا خطرہ ہے۔