انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ فلیپو گرینڈی ترکیہ کے ایک زلزلہ زدہ علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔
© UNHCR/Emrah Gürel

ترکیہ اور شام کے زلزلہ زدگان کی مدد میں تیزی لائیں: فلیپو گرینڈی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرینڈی نے شام اور ترکیہ کے پانچ روزہ دورے کے بعد وہاں حالیہ زلزلوں کے متاثرین کو بڑے پیمانے پر اور فوری عالمی امداد پہنچانے کی ضرورت کو واضح کیا ہے۔

آئی او ایم کے سربراہ انتونیو ویٹورینو  نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو ملبے سے نکالنے والے بہادر امدادی کارکنوں کی قربانیاں کبھی بھلائی نہیں جائیں گی۔
IOM 2023/Enver Mohammed

زلزلہ متاثرین کو طویل عرصہ مدد درکار رہے گی، آئی او ایم سربراہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے سربراہ نے ترکیہ کے قدیم شہر انطاکیہ کے وسطی علاقے کا دورہ کیا اور عالمی برادری سے کہا کہ وہ گزشتہ مہینے آنے والے تباہ کن زلزلوں کے لاکھوں متاثرین کو امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ''اپنی کوششوں میں اضافہ کرے''۔

الیپو، شام: زلزلے سے متاثرہ ایک خاندان ایک سکول میں پناہ لیے ہوئے ہے۔
© UNICEF/Aaraf Watad

ترکیہ اور شام میں زلزلوں سے 850,000 سے زیادہ بچے بے گھر ہوئے ہیں

اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ ترکیہ اور شام میں آنے والے دو تباہ کن زلزلوں سے ایک ماہ بعد 850,000 سے زیادہ بچے اپنے ٹوٹے پھوٹے یا تباہ شدہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے کے بعد بدستور بے خانماں ہیں اور لاکھوں لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش شام سے عراق واپس آنے والوں کے کیمپ میں لوگوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔
UNAMI/Sarmad Al-Safy

شام کے بدنام زمانہ کیمپ سے عراقیوں کی وطن واپسی ’مثالی‘ ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عراق کی جانب سے اپنے شہریوں کو شمال مغربی شام کے کیمپوں سے واپس بلانے کی ستائش کرتے ہوئے دیگر حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھی 'ذمہ داری لیں اور عملی قدم اٹھائیں'۔ ان کیمپوں میں رکھے گئے لوگوں پر داعش سے تعلق کا شبہ ہے۔

ترکیہ سے روانہ ہونے والی اس کشتی میں افغانستان اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے لوگ سوار تھے (فائل فوٹو)۔
© UNHCR/Francesco Malavolta

اٹلی: ہلاکت انگیز بحری حادثہ زندگیاں بچانے پر توجہ کا متقاضی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور پناہ گزینوں اور مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اٹلی کے ساحل کروٹون پر جہاز ڈوبنے سے کم از کم 45 افراد کی ہلاکت کے بعد محفوظ سفری راستوں اور امدادی کارروائیوں میں بہتری لانے کے لیے کہا ہے۔

ڈیوڈ بیزلی ترکیہ اور شام میں چھ فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے مرکزی مقام پر کھڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ انہوں نے دیکھا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
WFP

ترکیہ اور شام میں زلزلہ تباہی قیامت انگیز ہے: سربراہ عالمی ادارہ خوراک

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کے سربراہ نے ہفتے کو شام اور ترکیہ میں زلزلے سے تباہ حال علاقوں اور امداد کی فراہمی کے راستوں کا دورہ مکمل کیا۔ انہوں ںے حکام سے کہا ہے کہ وہ مزید سرحدی راستے کھولیں تاکہ دونوں ممالک میں متاثرین کی مدد ہو سکے۔

زلزلے سے بے گھر ہونے والے افراد عارضی طور پر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
© UNICEF/UNOCHA

ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے یونیسف کی اپیل

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی اعلیٰ عہدیدار نے ترکیہ میں شدید زلزلوں سے متاثرہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے بڑے پیمانے پر مدد فراہم کرنے کو کہا ہے۔ ان زلزلوں کے باعث دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

شمالی شام میں ایک بچہ امدادی سامان پر سر رکھے سو رہا ہے۔
© UNOCHA/Mohanad Zayat

امدادی سرگرمیوں کے لیے اقوام متحدہ کے وفد کا زلزلہ زدہ شام کا دورہ

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں ترکیہ سے شمال مغربی شام میں زلزلہ متاثرین کے لیے امداد لے جانے والے اقوام متحدہ کے 282 ٹرک تین سرحدی راستوں کو عبور کر چکے ہیں۔

ترکیہ کے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں ایک تباہ حال عمارت
© UNOCHA/Matteo Minasi

ترکیہ میں زلزلے کے بعد 15 لاکھ افراد بے گھر: یو این ماہرین

ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41,000 سے تجاوز کر گئی ہے اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب میں 1.5 ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جہاں کم از کم 500,000 نئے گھر تعمیر کرنا ہوں گے۔

زلزلے سے متاثرہ شمالی شام میں ایک شخص ہلاک ہو جانے والے اپنے چھ سالہ بیٹے کی چیزیں ملبے میں سے سمیٹ کر جا رہا ہے۔
© UNICEF/Khalil Ashawi

شام ترکیہ سرحد زلزلہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لیے فعال ہے

اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تباہ کن زلزلوں سے دو ہفتوں کے بعد اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ترکیہ سے سرحد پار شمال مغربی شام میں امداد کی فراہمی بڑھانے میں مصروف ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک نیا سرحدی راستہ بھی اسعمال کیا جا رہا ہے۔