انسانوں، جانوروں، اور ماحول کی صحت جامع حکمت عملی کی متقاضی
اقوام متحدہ کے اداروں کے سربراہوں نے لوگوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کو متوازن اور بہتر بنانے کے لیے نئے ''ون ہیلتھ'' طریقہ کار کے تحت عالمگیر اقدام کے لیے کہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کے سربراہوں نے لوگوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کو متوازن اور بہتر بنانے کے لیے نئے ''ون ہیلتھ'' طریقہ کار کے تحت عالمگیر اقدام کے لیے کہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کےسربراہ نے ''سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ پر غلط اطلاعات'' کے خلاف پُرزور آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزام غلط ہے کہ وباؤں سے متعلق ایک ایسے معاہدے پر بات ہو رہی ہے جس سے ادارے کو مستقبل میں وباؤں میں قومی خودمختاری سے ماوار اقدامات کا اختیار مل جائے گا۔
اقوام متحدہ کی شائع کردہ ایک اہم ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی پر جنگیں ہوتی ہیں، یہ آگ بجھاتا ہے اور انسانی بقا کے لیے اس کی لازمی اہمیت ہے لیکن اس تک تمام انسانوں کی رسائی یقینی بنانے کا بڑی حد تک دارومدار تعاون میں بہتری لانے پر ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) چین سے کہہ رہا ہے کہ وہ کووڈ۔19 سے متعلق معلومات دینے میں ''شفافیت' کا مظاہرہ کرے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اس بیماری کا آغاز کیسے ہوا تھا۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کم از کم 55 ممالک کو طبی کارکنوں کی شدید کمی کا سامنا ہے جو بہتر اجرتوں کی تلاش میں امیر ممالک کو جانا چاہتے ہیں جنہوں ںے کووڈ۔19 وبا کے دوران انہیں بھرتی کرنے کی کوششوں میں اضافہ کیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوڈیم کے استعمال میں کمی لانے کی پالیسیاں اختیار کر کے 2030 تک دنیا بھر میں اندازاً سات ملین لوگوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔
یو این ایڈز کی سربراہ نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز میں مبتلا لوگوں کے خلاف امتیازی قوانین کی منسوخی سے زندگیوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اور اس وبا خاتمے کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی حصوں میں زچگی کے دوران سامنے آنے والے صحت کے مسائل ہر دو منٹ کے بعد حمل یا بچے کی پیدائش کے موقع پر ایک خاتون کی جان لے لیتے ہیں۔
انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک غیرجانبدار ماہر نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ وہ جذام سے متاثرہ افراد کو بہتر طور سے تحفظ دینے کے لیے قوانین بنائے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماریوں کے حالیہ پھیلاؤ نے ہر ملک کے لیے اپنے طبی حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت کو واضح کر دیا ہے۔