دنیا سے بھوک ختم کرنے کے لیے غذائی نظام بدلنا ضروری، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا سے بھوک کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے غذائی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا سے بھوک کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے غذائی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت (اے ایم آر) سالانہ 13 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہے اور 50 لاکھ دیگر اموات میں بھی اس کا کردار ہوتا ہے۔ صحت و صفائی برقرار رکھنے، ویکسین لگوانے اور ادویات کے بہت زیادہ یا غلط استعمال سے پرہیز کرتے ہوئے اس خطرے کو دور رکھا جا سکتا ہے۔
افریقہ بھر میں نئی قِسم کا ایم پاکس وائرس پھیلنے کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ ہفتے ایک مرتبہ پھر اسے عالمگیر صحت کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔
امتیازی سلوک کے خاتمے کے 10 ویں عالمی دن پر ایڈز کی روک تھام کے عالمی ادارے (یو این ایڈز) نے کہا ہے کہ صنف، جنس یا ایچ آئی وی کی صورتحال سے قطع نظر سبھی کے لیے مساوات اور شفافیت کو فروغ دینے کا کام خطرے سے دوچار ہے۔
جنیوا میں اتوار کو منعقدہ ایک خصوصی ہنگامی اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایگزیکٹو بورڈ نے غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے۔
'کاپ 28' میں صحت اور موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر ہونے والی بات چیت میں کہا گیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دہائیوں میں موسمی شدت کے واقعات ہر سال کم از کم ڈھائی لاکھ لوگوں کی جان لیتے رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ 2030 تک ایڈز کا صحت عامہ کے لیے خطرے کی حیثیت سے خاتمہ ممکن ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ایڈز کے خلاف اقدامات میں مقامی سطح پر قائدانہ کردار کو فروغ دینا ہو گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین نے 2030 تک تپ دق (ٹی بی) کا خاتمہ کرنے کی کوششیں آگے بڑھانے کے لیے اعلامیے کی منظوری دے دی ہے۔
روایتی ادویات کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کی پہلی عالمی کانفرنس اس ہفتے انڈیا کے شہر گاندھی نگر میں شروع ہو رہی ہے جس میں ان ادویات کی افادیت کے حوالے سے ثبوتوں اور اس شعبے میں بہترین طریقہ ہائے کار کے تبادلے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تین چوتھائی بچوں کو انتہائی شدید گرمی کا سامنا ہے جبکہ عالمی سطح پر ایسے بچوں کی شرح ایک تہائی ہے۔