انسانی کہانیاں عالمی تناظر

صحت

انڈیا میں کووڈ۔19 وباء کی ویکسین تیار کرنے کی ایک لیبارٹری۔
© UNICEF/ Dhiraj Singh

2023 کامیابیوں اور قابل گریز مصائب کا سال: ڈبلیو ایچ او چیف

گزشتہ برس عالمگیر صحت عامہ کے حوالے سے جہاں بعض نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں وہیں دنیا کو کئی ایسے طبی مسائل کی وجہ سے بے پایاں تکالیف کا سامنا بھی رہا جن کی روک تھام ناممکن امر نہیں ہے۔

مچھر دانیاں ملیریا اور ڈینگی کی روک تھام میں کارگر ثابت ہوتی ہیں۔
© UNDP/Gwenn Dubourthoumieu

ڈینگی دنیا بھر میں صحت عامہ کا خطرہ، سال میں 5000 ہلاکتیں

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اِس برس دنیا بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں حیران کن اضافہ صحت عامہ کو لاحق ممکنہ سنگین خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب یہ بیماری ایسے ممالک میں بھی پھیل رہی ہے جو پہلے اس سے محفوظ تھے۔

تجارتی پیمانے پر پیدا کی جانے والی 'فارمولا غذائیں' جنوب مشرقی ایشیا میں چھوٹے بچوں کی عام خوراک ہیں۔
©UNICEF/Linh Pham/AFP-Services

بچوں کی بازاری خوراک میں شکر اور نمک کی نقصان دہ مقدار

یونیسف کی معاونت سے ہونے والی ایک نئی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں 6 ماہ سے 3 سال تک عمر کے بچوں کے لیے تجارتی پیمانے پر تیار کی جانے والی ڈبہ بند خوراک میں شکر اور نمک کی نقصان دہ حد تک بھاری مقدار پائی جاتی ہے۔

کرغستان کے شہر اوش میں ایک بچے کو خسرے کی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
© UNICEF/Giacomo Pirozzi

یورپ اور وسطی ایشیا میں خسرے کے واقعات میں بے پناہ اضافہ

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا میں خسرے کی ویکسین لگوانے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 3,200 فیصد بڑھ گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 88 ممالک میں ای سگریٹ خریدنے کے لیے عمر کی کوئی کم از کم حد مقرر نہیں ہے۔
© Unsplash

ای سگریٹ کے استعمال میں نابالغوں کی تعداد زیادہ، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہر جگہ بڑی تعداد میں نوعمر افراد ای سگریٹ کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں بچوں کو اس سگریٹ کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لیے قوانین کا فقدان ہے۔

غزہ کے اکثر ہسپتال بمباری میں ناکارہ ہو چکے ہیں اور جو اب بھی فعال ہیں ان میں مزید زخمیوں اور مریضوں کی دیکھ بھال کی گنجائش نہیں رہی۔
© WHO

غزہ: انسانیت کی تباہی کا علاقہ، ہستپالوں میں گنجائش ختم، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ غزہ بھر میں شدید بیمار اور زخمی لوگوں کی بڑی تعداد کو اسرائیل کی متواتر بم باری کا سامنا ہے۔ شمالی علاقے میں جزوی طور پر فعال آخری ہسپتال انسانی تباہی کی تصویر بن گیا ہے۔

نومولود بچوں کو غزہ کے الشفاء ہسپتال سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Eyad El Baba

غزہ: زندگی بخش امداد پہنچانے پر ڈبلیو ایچ او نے کی قرارداد منظور

جنیوا میں اتوار کو منعقدہ ایک خصوصی ہنگامی اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایگزیکٹو بورڈ نے غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ دوران حمل اور زچگی کے تمام مراحل میں موثر طبی نگہداشت کی بدولت کئی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
© UNICEF/Farhana Satu

زچگی کے طویل مدتی طبی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت، ماہرین

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ ہر سال کم از کم 4 کروڑ خواتین کو بچوں کی پیدائش کے باعث ایسے طبی مسائل لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جن کے اثرات طویل مدت تک قائم رہتے ہیں۔