کووڈ۔19 وباء کے تجربے سے سبق سیکھنے کی ضرورت، یو این چیف
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو مستقبل کی وباؤں کے مقابلے کی تیاری کرنا ہو گی اور اس کے لیے کووڈ۔19 سے حاصل کردہ اسباق پر عمل کرنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو مستقبل کی وباؤں کے مقابلے کی تیاری کرنا ہو گی اور اس کے لیے کووڈ۔19 سے حاصل کردہ اسباق پر عمل کرنا ضروری ہے۔
گزشتہ برس عالمگیر صحت عامہ کے حوالے سے جہاں بعض نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں وہیں دنیا کو کئی ایسے طبی مسائل کی وجہ سے بے پایاں تکالیف کا سامنا بھی رہا جن کی روک تھام ناممکن امر نہیں ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اِس برس دنیا بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں حیران کن اضافہ صحت عامہ کو لاحق ممکنہ سنگین خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب یہ بیماری ایسے ممالک میں بھی پھیل رہی ہے جو پہلے اس سے محفوظ تھے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ملیریا کی دوسری ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے جسے اس بیماری کی روک تھام کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔
یونیسف کی معاونت سے ہونے والی ایک نئی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں 6 ماہ سے 3 سال تک عمر کے بچوں کے لیے تجارتی پیمانے پر تیار کی جانے والی ڈبہ بند خوراک میں شکر اور نمک کی نقصان دہ حد تک بھاری مقدار پائی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا میں خسرے کی ویکسین لگوانے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 3,200 فیصد بڑھ گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہر جگہ بڑی تعداد میں نوعمر افراد ای سگریٹ کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں بچوں کو اس سگریٹ کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لیے قوانین کا فقدان ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ غزہ بھر میں شدید بیمار اور زخمی لوگوں کی بڑی تعداد کو اسرائیل کی متواتر بم باری کا سامنا ہے۔ شمالی علاقے میں جزوی طور پر فعال آخری ہسپتال انسانی تباہی کی تصویر بن گیا ہے۔
جنیوا میں اتوار کو منعقدہ ایک خصوصی ہنگامی اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایگزیکٹو بورڈ نے غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ ہر سال کم از کم 4 کروڑ خواتین کو بچوں کی پیدائش کے باعث ایسے طبی مسائل لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جن کے اثرات طویل مدت تک قائم رہتے ہیں۔