ایکوساک اجلاس میں کام کرنے کے بدلتے انداز زیر بحث
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ جے محمد نے کہا ہے کہ کام کے حالات میں بہتری لانے کے لیے تمام ممالک کو تمام لوگوں کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ جے محمد نے کہا ہے کہ کام کے حالات میں بہتری لانے کے لیے تمام ممالک کو تمام لوگوں کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ سیاحت (یو این ڈبلیو ٹی او)نے بتایا ہے کہ 2023 بین الاقوامی سیاحت کے فروغ کا سال رہا اور رواں برس اس شعبے کی قبل از کووڈ سطح پر بحالی کی توقع ہے۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے کہا ہے کہ اگست 2021 کے بعد ملک کو تاریک سماجی و معاشی حالات کا سامنا ہے۔ بحرانوں پر قابو پانے کے لیے خواتین کی معاشی شمولیت کو مرکزی اہمیت دینا ہو گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں کشیدگی کو روکنے کے لیے کام کریں جہاں یمن کے حوثی باغی غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد تجارتی بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان ہے جبکہ عدم مساوات میں اضافے اور استعداد کار میں کمی کے باعث معاشی افق پر کئی طرح کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے کڑے اثرات اور سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے جن پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر فوری سرمایہ کاری اور صنعتی شعبے کو ماحول دوست بنانے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال کے اختتام پر خوراک کی قیمتوں کے اشاریے میں دسمبر 2022 کے مقابلے میں 10 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں خوراک کی مہنگائی کے حوالے سے خدشات بھی قدرے کم ہو گئے ہیں۔
دنیا کی معاشی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق 2024 میں عالمگیر شرح نمو 2.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جو 2023 میں 2.7 فیصد تھی۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں 20 فیصد بچے غربت کا شکار ہیں جس کے ان کی زندگی پر طویل اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں متواتر مگر غیرمساوی طور سے اضافہ ہو رہا ہے۔ امیر ممالک میں بیشتر آبادی 5 جی نیٹ ورک استعمال کر رہی ہے جبکہ غریب ملکوں کے لوگ تاحال اس ٹیکنالوجی تک رسائی سے محروم ہیں۔