انسانی کہانیاں عالمی تناظر

معاشی ترقی

انڈونیشیا میں ایک نئی ٹیکسی موبائل ایپ کے ساتھ منسلک موٹرسائیکل والا سواری ملنے کا انتظار کر رہا ہے۔
Unsplash/Afif Kusuma

ٹیکنالوجی گلوبل ساؤتھ کے شعبہ محنت میں ’عدم استحکام‘ کا سبب

عام رائے کے مطابق دور حاضر میں ٹیکنالوجی ہی ترقی کی ضامن ہے لیکن عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض ٹیکنالوجی کی بدولت معاشی فروغ اور بنیادی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔

میڈرڈ ائیرپورٹ، سپین۔
© Unsplash/John Oswald

سال 2023 میں فضائی کمپنیوں نے 39 ارب ڈالر منافع کمایا

شہری ہوابازی کے بین الاقوامی ادارے (آئی سی اے او) نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں سال فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں 2019 کے مقابلے میں 2 فیصد اضافہ ہو گا اور فضائی کمپنیاں گزشتہ برس ہونے والا منافع برقرار رکھیں گی۔

روانڈا کی ایک کسان اپنے موبائل فون پر موسم کے بارے میں اطلاعات وصول کرتی ہیں۔
©IFAD/Simona Siad

عالمگیر رابطے بڑھانے پر فون کمپنیاں 9 ارب ڈالر خرچ کرنے پر تیار

موبائل فون بنانے کی صنعت نے دنیا بھر میں ڈیجیٹل ربط بڑھانے کے لیے 9 ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کروڑوں لوگوں کے لیے ڈیجیٹل رابطے مزید آسان اور سستے ہو جائیں گے۔

نقل و حمل کا نظام دنیا بھر میں ہر سال خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے 23 فیصد کا ذمہ دار ہے۔
UN News/Yun Zhao

شعبہِ ٹرانسپورٹ میں کاربن کا اخراج کم کرنے کی پالیسی منظور

اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے 'ازالہ کاربن کی بین الاقوامی حکمت عملی' منظور کر لی ہے جس سے سڑکوں، ریل اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں پر نقل و حمل میں کاربن کے اخراج پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ٹیسلا کار آٹو پائلٹ پر چلتے ہوئے۔
© Ian Maddox

روبوٹ کاریں اب حقیقت، سوال یہ ہے کہ انہیں محفوظ کیسا بنایا جائے؟

خودکار طریقے سے چلنے والی کاروں میں محفوظ اور منظم انداز میں سفر کرنا کئی دہائیوں سے انسان کا خواب رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں متاثر کن ترقی کے باوجود ابھی تک ایسی گاڑیاں عام ہونا دور کی بات معلوم ہوتی ہے۔

غزہ کے علاقے خان یونس کی ایک عارضی پناہ گاہ میں خواتین کھانا تیار کر رہی ہیں۔
© UNRWA/Ashraf Amra

غزہ کی معاشی بحالی کو دہائیاں لگیں گی، یو این رپورٹ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ سے غیرمعمولی پیمانے پر معاشی تباہی ہوئی ہے۔ علاقے کی بحالی میں کئی دہائیاں لگیں گی اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔