امیر ملکوں میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ غربت کا شکار، یونیسف
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں 20 فیصد بچے غربت کا شکار ہیں جس کے ان کی زندگی پر طویل اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں 20 فیصد بچے غربت کا شکار ہیں جس کے ان کی زندگی پر طویل اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں متواتر مگر غیرمساوی طور سے اضافہ ہو رہا ہے۔ امیر ممالک میں بیشتر آبادی 5 جی نیٹ ورک استعمال کر رہی ہے جبکہ غریب ملکوں کے لوگ تاحال اس ٹیکنالوجی تک رسائی سے محروم ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 'ترقی کے حق' پر ورکنگ گروپ کے سربراہ سفیر ضمیر اکرم نے کہا ہے کہ ترقی بنیادی انسانی حق ہے، تاہم عالمگیر اتفاق رائے کی غیرموجودگی اور عدم تعاون کے باعث اس کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث کڑے مسائل کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ترقی یافتہ معیشتوں کو مالیاتی و موسمیاتی انصاف ممکن بنانا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) نے کہا ہے کہ کم ترین ترقی یافتہ ممالک کو بڑھتے ہوئے قرض اور مالی وسائل کی کمی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد نہ دی گئی تو وہاں رہنے والے 800 ملین لوگوں کی زندگی میں مزید بگاڑ آنے کا اندیشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ اگرچہ زرعی خوراک کے موجودہ نظام غذائیت فراہم کرتے اور معیشت کو مستحکم رکھتے ہیں، تاہم ان سے صحت اور ماحول کو سالانہ 10 ٹریلین ڈالر کا نقصان بھی ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیوبا کے خلاف امریکہ کی معاشی و تجارتی پابندیوں کے خاتمے کے حق میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔
غربت سے متعلق امور پر اقوام متحدہ کے ماہر نے امریکہ کی بڑی کاروباری کمپنیوں ایمازون، ڈور ڈیش اور وال مارٹ کے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ کارکنوں کو ناکافی اجرت دینے اور انجمن سازی کے لیے ان کے حق کی پامالی کے الزامات کی وضاحت کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غزہ میں تمام شہریوں کو تحفظ دینے کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیرمحاصرہ علاقے میں ہر لمحہ مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت سے لاحق خدشات، اس سے حاصل ہونے والے مواقع اور اس کے عالمگیر انتظام کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک مشاورتی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔