انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسم اور ماحول

پاکستان میں آئے تباہ کن سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب اور کھڑا پانی متاثرہ علاقوں میں پانی اور جراثیموں سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
© WFP

پاکستان سیلاب ذدگان کی امدادی اپیل کا اب تک صرف 21 فیصد اکٹھا ہوا ہے: اوچا

امدادی کارروائیوں کے ادارے او سی ایچ اے کے مطابق پاکستان میں تباہ کن سیلاب آنے کے تین ماہ بعد بھی تباہی ختم نہیں ہوئی۔ سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس نے معیشت، زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبے میں تباہی مچائی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کاپ 27 کے دوران صحافیوں سے خطاب کر رہے ہیں جبکہ کاپ 27 کے صدر مصر کے سامح شکری ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
UNIC Tokyo/Momoko Sato

کاپ 27: مذاکرات اب تک بے نتیجہ، انتونیو گوتیرش نے کہا توقعات پر پورا اترنا ضروری

کاپ 27 آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گی تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک میں 'نقصان اور تباہی' سمیت کئی اہم امور پر بدستور عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔

یو این ای پی کے مطابق حیاتی تنوع کو ہونے والا نقصان پہلے ہی علاقائی اور عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں پر نمایاں طور سے اثرانداز ہو رہا ہے۔
© FAO/Thomas Nicolon

کاپ 27: حیاتیاتی بوقلمونی کا تحفظ پیرس معاہدے کی پاسداری

اگرچہ کئی سال تک موسمیاتی بحران اور حیاتیاتی تنوع کے بحران کو الگ الگ مسائل کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، تاہم جیسا کہ بدھ کو کاپ 27 میں واضح کیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے فوری تحفظ اور بحالی کے بغیر عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کا کوئی قابل عمل طریقہ نہیں ہے۔

کاپ 27 میں ’انرجی اور سول سوسائٹی‘ کے دن مظاہرین نے افریقہ میں گیس اور تیل کی تلاش کے خلاف احتجاج کیا۔
UN News/Laura Quiñones

کاپ 27: درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کے ہدف پر زور

اگرچہ سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچنے کے لیے معدنی ایندھن پر انحصار ترک کرنا ہو گا لیکن اس کے باوجود تیل، گیس اور کوئلے کے منصوبوں میں پریشان کن توسیع دیکھنے میں آ رہی ہے۔

شرم الشیخ میں نوجوان مظاہرین عالمی رہنماؤں سے معدنی ایندھن کا استعمال ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
UNFCCC/Kiara Worth

معدنی ایندھن اندھی گلی ہیں: کاپ 27 میں موسمیات پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ مشیر کا بیان

دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے بارے میں مذاکرات اور اس مسئلے پر قابو پانے کے طریقوں کا تبادلہ، موسمیاتی انصاف کے متواتر مطالبات اور موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مالی مدد اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ 27 میں جمعے کی کارروائی کا نمایاں حصہ تھے۔

بنگلہ دیش کے علاقے سلہٹ میں پروتا کا سکول شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بند پڑا ہے اور اس کا گھر بھی سیلاب کی زد میں ہے۔
© UNICEF/Parvez Ahmad Rony

’ہمارا مستقبل چھینا جا رہا ہے‘ نوجوانوں نے کاپ 27 مذاکرات کاروں کو دی دُہائی

بینروں، پوسٹروں، میگا فون اور خاص طور پر سائنسی و معاشی حقائق پر مبنی اور دل کو جھجھوڑ دینے والے پیغامات لیے نوجوان  جمعرات کو کاپ 27 کے انعقاد کے مقام پر پھیل گئے اور مذاکرات کاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے ترقی پذیر ممالک کو ہونے والے نقصان کے ازالے کا مسئلہ حل کریں۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے سیلاب سے متاثرہ پاکستان سے یکجہتی کے اظہار کے لیے کیے گئے دورے کے دوران فضاء سے لی گئی ایک تصویر
UN Photo/Eskinder Debebe

موسمیاتی بحران کی شدت پر شک کرنے والوں کو جا کر پاکستان دیکھنا چاہیے: گوتیرش

مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں موسمی مسائل پر اقوام متحدہ کی سالانہ کانفرنس کے سرابرہی اجلاس کے پہلے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اگر کسی کو موسمیاتی بحران کی شدت اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات اور تباہی پر شک ہے تو اسے پاکستان جا کر اس کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔

''انسانیت کو تعاون یا تباہی میں سے ایک انتخاب کرنا ہے: سیکرٹڑی جنرل انتونیو گوتیرش
UNIC Tokyo/Momoko Sato

موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے امیر اور غریب ممالک میں معاہدہ وقت کی ضرورت: گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ امیر اور ترقی پذیر ممالک کے مابین ایک معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ صلاحیتوں کو یکجا کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے، توانائی کے نظام تبدیل کرنے اور موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے دنیا کو ایک جگہ اکٹھا کیا جا سکے۔

حدت کی شدت جان لیوا ثابت ہو رہی ہے جس سے مصائب اور ہجرت جنم لے رہے ہیں۔
© Unsplash/Emerson Peters

اقوام متحدہ کی نئی موسمیاتی رپورٹ 'ابتری کی داستان' ہے: گوتیرش

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کے باعث گزشتہ آٹھ سال دنیا کا تاریخ کا گرم ترین عرصہ رہے ہیں۔