دنیا کے وسیع علاقے 2021 میں غیر معمولی خشک سالی کا شکار رہے: ڈبلیو ایم او
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے کہا ہے کہ 2021 میں دنیا کے بیشتر حصے معمول سے زیادہ خشک رہے جس کے ''معیشتوں، ماحول اور روزمرہ زندگیوں پر مسلسل منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں''۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے کہا ہے کہ 2021 میں دنیا کے بیشتر حصے معمول سے زیادہ خشک رہے جس کے ''معیشتوں، ماحول اور روزمرہ زندگیوں پر مسلسل منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں''۔
امدادی کارروائیوں کے ادارے او سی ایچ اے کے مطابق پاکستان میں تباہ کن سیلاب آنے کے تین ماہ بعد بھی تباہی ختم نہیں ہوئی۔ سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس نے معیشت، زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبے میں تباہی مچائی ہے۔
کاپ 27 آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گی تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک میں 'نقصان اور تباہی' سمیت کئی اہم امور پر بدستور عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔
اگرچہ کئی سال تک موسمیاتی بحران اور حیاتیاتی تنوع کے بحران کو الگ الگ مسائل کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، تاہم جیسا کہ بدھ کو کاپ 27 میں واضح کیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے فوری تحفظ اور بحالی کے بغیر عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کا کوئی قابل عمل طریقہ نہیں ہے۔
اگرچہ سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچنے کے لیے معدنی ایندھن پر انحصار ترک کرنا ہو گا لیکن اس کے باوجود تیل، گیس اور کوئلے کے منصوبوں میں پریشان کن توسیع دیکھنے میں آ رہی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے بارے میں مذاکرات اور اس مسئلے پر قابو پانے کے طریقوں کا تبادلہ، موسمیاتی انصاف کے متواتر مطالبات اور موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مالی مدد اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ 27 میں جمعے کی کارروائی کا نمایاں حصہ تھے۔
بینروں، پوسٹروں، میگا فون اور خاص طور پر سائنسی و معاشی حقائق پر مبنی اور دل کو جھجھوڑ دینے والے پیغامات لیے نوجوان جمعرات کو کاپ 27 کے انعقاد کے مقام پر پھیل گئے اور مذاکرات کاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے ترقی پذیر ممالک کو ہونے والے نقصان کے ازالے کا مسئلہ حل کریں۔
مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں موسمی مسائل پر اقوام متحدہ کی سالانہ کانفرنس کے سرابرہی اجلاس کے پہلے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اگر کسی کو موسمیاتی بحران کی شدت اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات اور تباہی پر شک ہے تو اسے پاکستان جا کر اس کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ امیر اور ترقی پذیر ممالک کے مابین ایک معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ صلاحیتوں کو یکجا کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے، توانائی کے نظام تبدیل کرنے اور موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے دنیا کو ایک جگہ اکٹھا کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کے باعث گزشتہ آٹھ سال دنیا کا تاریخ کا گرم ترین عرصہ رہے ہیں۔