انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسم اور ماحول

خلیج بنگال میں آنے والے اس طوفان سے ابتداً بھولا، پٹواکھلی اور باگرہاٹ کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
© UNICEF/Salahuddin Ahmed Paulash/Drik

بنگلہ دیش: سمندری طوفان ریمل سے 32 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں سمندری طوفان ریمل سے ساحلی علاقوں میں 32 لاکھ بچوں سمیت 84 لاکھ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

جنوبی ایشیا میں شدید گرمی کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے سے زیادہ ہے۔
© UNICEF/Vlad Sokhin

جنوبی ایشیا میں گرمی کی شدید لہر سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کا اجراء

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث بچوں کی صحت و زندگی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں لُو اور پانی کی کمی سے بچانے پر زور دیا ہے۔

جمعہ مئی 24 کو یمبالی گاؤں میں مٹی کے تودے گرنے سے سینکڑوں لوگ دب گئے جن کی تلاش جاری ہے۔
IOM/ Mohamud Omer

پاپوا نیوگنی: پہاڑی تودوں کی زد میں آئے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ پاپوا نیوگنی میں جمعے کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 670 افراد مٹی کے تودوں تلے دب گئے ہیں جن کے زندہ بچ جانے کی امیدیں وقت کے ساتھ دم توڑتی جا رہی ہیں۔

طویل بل دار سینگوں والا یہ جانور زیادہ تر وسطی ایشیا اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔
Anton Volnuhin/Unsplash

پاکستان: مارخور کے تحفظ کے عالمی دن پر علاقائی تعاون پر زور

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں مارخور کا پہلا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ معدومیت کے خطرے سے دوچار اس جانور کی سب سے بڑی آبادی پاکستان میں پائی جاتی ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ باقی دنیا میں اس کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

قازقستان کے ریگستانوں میں چکاروں کی تعداد پچیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
Press service of the Ministry of Ecology and Natural Resources of Kazakhstan.

حیاتیاتی تنوع کا عالمی دن: ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کا مطالبہ

کرہ ارض پر جانوروں، پودوں اور خوردبینی جرثوموں کے تنوع کو قدرتی ماحول میں لائی جانے والی تبدیلیوں، شہروں کی بڑھتی آبادی، فطری وسائل کے حد سے زیادہ استعمال، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

جنگلوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی بھی قدرتی ماحول کے بگاڑ کا سبب بن رہی ہے۔
Ales Krivec/Unsplash

ناکافی قانون سازی قدرت کے خلاف جرائم کی روک تھام میں رکاوٹ

فطرت کے خلاف جرائم کو روکنے اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کا محاسبہ کرنے کی عالمی کوششیں ممالک اور خطوں کے مابین ماحولیاتی تحفظ کے قوانین میں پائے جانے والے فرق کے باعث مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں۔

سیلابی پانی جگہ جگہ لوگوں کے گھروں میں بھی داخل ہو گیا ہے۔
© UNICEF

افغانستان: سیلاب سے جانی و مالی نقصان، عالمی برادری سے امداد کی اپیل

افغانستان کے کئی صوبوں میں آنے والے سیلاب میں 300 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سڑکوں کی تباہی اور ندی نالوں کے بند ٹوٹ جانے کے باعث متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کینیا کا مسائی مارا نیشنل پارک۔
Unsplash/David Clode

قدرت اور جنگلی حیات کو سمگلنگ سے خطرہ لاحق، یو این او ڈی سی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ دنیا میں ہر سال جنگلی حیات کی 4,000 قیمتی انواع کی غیر قانونی تجارت ہو رہی ہیں جس سے فطرت، روزگار اور صحت عامہ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

ہرات میں گزشتہ سال زلزلے نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Osman Khayyam

افغانستان: گوتیرش کا بارشوں میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افغانستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصان پر افسوس اور متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک میں تین روز سے جاری شدید بارشوں اور سیلاب میں 300 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔