بنگلہ دیش: سمندری طوفان ریمل سے 32 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں سمندری طوفان ریمل سے ساحلی علاقوں میں 32 لاکھ بچوں سمیت 84 لاکھ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں سمندری طوفان ریمل سے ساحلی علاقوں میں 32 لاکھ بچوں سمیت 84 لاکھ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث بچوں کی صحت و زندگی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں لُو اور پانی کی کمی سے بچانے پر زور دیا ہے۔
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ پاپوا نیوگنی میں جمعے کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 670 افراد مٹی کے تودوں تلے دب گئے ہیں جن کے زندہ بچ جانے کی امیدیں وقت کے ساتھ دم توڑتی جا رہی ہیں۔
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں مارخور کا پہلا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ معدومیت کے خطرے سے دوچار اس جانور کی سب سے بڑی آبادی پاکستان میں پائی جاتی ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ باقی دنیا میں اس کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔
کرہ ارض پر جانوروں، پودوں اور خوردبینی جرثوموں کے تنوع کو قدرتی ماحول میں لائی جانے والی تبدیلیوں، شہروں کی بڑھتی آبادی، فطری وسائل کے حد سے زیادہ استعمال، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔
فطرت کے خلاف جرائم کو روکنے اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کا محاسبہ کرنے کی عالمی کوششیں ممالک اور خطوں کے مابین ماحولیاتی تحفظ کے قوانین میں پائے جانے والے فرق کے باعث مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں۔
افغانستان کے کئی صوبوں میں آنے والے سیلاب میں 300 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سڑکوں کی تباہی اور ندی نالوں کے بند ٹوٹ جانے کے باعث متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ دنیا میں ہر سال جنگلی حیات کی 4,000 قیمتی انواع کی غیر قانونی تجارت ہو رہی ہیں جس سے فطرت، روزگار اور صحت عامہ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
جنگلات میں کمی، کیڑے مار ادویات کے حد سے زیادہ استعمال، کیمیائی کھادوں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں حشرات اور ان پر انحصار کرنے والے ہجرتی پرندوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افغانستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصان پر افسوس اور متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک میں تین روز سے جاری شدید بارشوں اور سیلاب میں 300 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔