انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسم اور ماحول

بڑھتی سطح سمندر بحرالکاہل میں چھوٹے جزیروں پر مشتمل ممالک کے لیے وجودی خطرہ ہے۔
© WMO/João Murteira

بڑھتی سطح سمندر کے مسئلے سے نمٹنے کی فوری ضرورت، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سمندروں کا تحفظ کریں اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اقدامات کی رفتار میں تیزی لائیں۔

میانمار کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ایک فضائی منظر۔
UN Photo/Evan Schneider

یو این ادارے میانمار میں متاثرین سیلاب تک امداد پہنچانے میں مصروف عمل

اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں میانمار میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ہنگامی امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب نے پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی کو متاثر کیا ہے اور وسیع رقبے پر چاول کی فصل تباہ ہونے سے غذائی بحران آنے کا اندیشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش ٹونگا میں جزائر الکاہل کے فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Kiara Worth

موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں الکاہل جزائر کی قیادت کی تعریف

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ بحر الکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کرہ ارض کو موسمیاتی تبدیلی سے بچانے کی راہ دکھا رہے ہیں اور دنیا کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مزید مدد فراہم کرے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سیموا کے دورے کے دوران ایک ایک مقامی باشندے کے ساتھ۔
United Nations/Kiara Worth

بڑھتی سطح سمندر سے متاثرہ جزیروں کے لیے موسمیاتی انصاف کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سطح سمندر میں اضافے، قرضوں اور ارضی سیاسی تناؤ جیسے خطرات سے دوچار بحر الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کو موسمیاتی انصاف کی فراہمی پر زور دیا ہے۔

مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب سے میانمار کی پانچ ریاستیں متاثر ہوئی ہیں۔
© WFP

میانمار: سیلاب اور خانہ جنگی میں تیزی سے انسانی بحران میں شدت

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ میانمار میں شدید بارشوں اور سیلاب نے ملک میں جاری لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین انسانی بحران میں اضافہ کر دیا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

شام کے ایک مہاجر کیمپ میں ماں اپنے بچے پر پانی ڈال کر گرمی کی شدت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
© UNOCHA/Bilal Al-Hammoud

شدید گرمی بچوں کی صحت کے لیے بڑھتا خطرہ، یونیسف

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ایک نئے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ 20 فیصد بچے دنیا کے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں اپنے والدین سے پہلے کی نسل کے مقابلے میں کم از کم دو گنا زیادہ تعداد میں شدید گرم ایام درپیش ہیں۔

درجہ حرارت میں سالانہ ایک ڈگری سیلسیئس کا اضافہ غربت میں 9.1 فیصد اضافہ کر دیتا ہے۔
© Unsplash/Timo Volz

گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنا جاری، دس ممالک میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے زیادہ

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 22 جولائی 2024 اب تک کا گرم ترین دن تھا جو کہ اس امر کی علامت ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرہ ارض کے ماحول کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔