سطح سمندر میں اضافہ کیا ہے اور اس کے دنیا پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟
سمندروں کی سطح میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزرفتار اور بلند درجے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے تمام انسانیت کے لیے ہنگامی نوعیت کا بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا ہے۔
سمندروں کی سطح میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزرفتار اور بلند درجے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے تمام انسانیت کے لیے ہنگامی نوعیت کا بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سمندروں کا تحفظ کریں اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اقدامات کی رفتار میں تیزی لائیں۔
اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں میانمار میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ہنگامی امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب نے پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی کو متاثر کیا ہے اور وسیع رقبے پر چاول کی فصل تباہ ہونے سے غذائی بحران آنے کا اندیشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ بحر الکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کرہ ارض کو موسمیاتی تبدیلی سے بچانے کی راہ دکھا رہے ہیں اور دنیا کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مزید مدد فراہم کرے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سطح سمندر میں اضافے، قرضوں اور ارضی سیاسی تناؤ جیسے خطرات سے دوچار بحر الکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کو موسمیاتی انصاف کی فراہمی پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ میانمار میں شدید بارشوں اور سیلاب نے ملک میں جاری لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین انسانی بحران میں اضافہ کر دیا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔
جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ یوکرین میں ژیپوریژیا کے جوہری بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے کے بعد اس کے تحفظ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ایک نئے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ 20 فیصد بچے دنیا کے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں اپنے والدین سے پہلے کی نسل کے مقابلے میں کم از کم دو گنا زیادہ تعداد میں شدید گرم ایام درپیش ہیں۔
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 22 جولائی 2024 اب تک کا گرم ترین دن تھا جو کہ اس امر کی علامت ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرہ ارض کے ماحول کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے میانمار کی پانچ ریاستوں میں ایک لاکھ سے زیادہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ہنگامی امدادی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔