2023 گزشتہ تین دہائیوں میں خشک ترین سال تھا، ڈبلیو ایم او
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 2023 گزشتہ تین دہائیوں کا خشک ترین سال تھا جب دریاؤں میں پانی کی مقدار میں غیرمعمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ 2023 گزشتہ تین دہائیوں کا خشک ترین سال تھا جب دریاؤں میں پانی کی مقدار میں غیرمعمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) اور انٹرنیشنل سکی اینڈ سنوبورڈ فیڈریشن (ایف آئی ایس) نے سرمائی کھیلوں اور سیاحت پر موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے شراکت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ نیپال میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں 35 بچوں سمیت 215 لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے کہا ہے کہ دنیا ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں امیر اور غریب، ہم آہنگی اور نفرت اور معاشی ترقی و ماحولیاتی تباہی کے تضادات پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو بڑھتی سطح سمندر سے تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ اربوں لوگوں کی امیدوں اور خواہشات کو غرقاب ہونے نہیں دیا جا سکتا۔
عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ کرہ ارض کے گرد اوزون گیس کی تہہ طویل مدتی بحالی کی جانب درست سمت میں گامزن ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سمارٹ فارمنگ کا ایسا نمونہ تیار کیا گیا ہے جس سے پانی اور کھادوں کی بچت کرتے ہوئے کم رقبے پر بڑی فصل اگا کر بہت سے زرعی و ماحولیاتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) پاکستان میں جنوبی پنجاب اور سندھ کے 24 اضلاع میں موسمیاتی پیشنگوئی کے جدید نظام کو وسعت دے رہا ہے جس کی بدولت سیلاب اور خشک سالی سے بروقت آگاہی، آبپاشی کی بہتر منصوبہ بندی اور زرعی پیداوار کے تحفظ میں مدد ملے گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیلاب کے باعث 20 لاکھ سے زیادہ بچوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں جہاں پانی دیہات، لوگوں کے گھروں اور سکولوں کو بہا لے گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ جنوبی ایشیا میں مون سون کی شدید بارشوں اور سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔