انڈیا میں مٹی گارے سے تعمیرکردہ ماحول دوست گھر
انڈیا میں دو خواتین مٹی کے ذریعے 'پائیدار تعمیر' کو فروغ دے کر بیک وقت موسمیاتی مسائل میں کمی لانے اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔
انڈیا میں دو خواتین مٹی کے ذریعے 'پائیدار تعمیر' کو فروغ دے کر بیک وقت موسمیاتی مسائل میں کمی لانے اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے جنگلی حیات کو بربادی کے قریب پہنچا دیا ہے۔ اسے تحفظ دینے کے لیے انسان کو اپنی اختراعی صلاحیتوں سے کام لینا ہو گا۔
اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی (یو این ای اے) کے اختتام پر ایک وزارتی اعلامیے سمیت 17 قراردادوں اور فیصلوں کی منظوری دے دی گئی ہے جن کا مقصد انسان اور فطرت کے مابین ہم آہنگی کو بحال کرنا اور لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ہیٹی کو مسلح جتھوں کے تشدد سے نجات دلانے کے لیے بین الاقوامی مشن کے ساتھ بھرپور تعاون کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
پاکستان میں تیزی سے انحطاط کا شکار ہوتے دریائے سندھ کے طاس کو بچانے کے اقدام 'زندہ دریائے سندھ' کو ماحولیاتی نظام کی بحالی سے متعلق اقوام متحدہ کے سات بڑے منصوبوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اگر دنیا معدنی ایندھن کا استعمال ترک کر دے تو ہمیں کمیاب معدنیات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہو گی جو ونڈ ٹربائن اور سولر پلانٹ جیسے توانائی کے قابل تجدید ذرائع میں استعمال ہوتی ہیں۔
ہر دو برس کے بعد اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کرہ ارض کو درپیش اہم ماحولیاتی مسائل پر اکٹھے ہو کر بات چیت کرتے ہیں۔ اسے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی (یو این ای اے) کہا جاتا ہے جس کا چھٹا اجلاس 26 فروری سے کینیا میں شروع ہو رہا ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ لوگوں کو نقد امداد فراہم کی ہے۔ اس مدد سے متاثرین کو اپنی زندگیوں کے تحفظ اور بحالی میں مدد ملی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور غذائی عدم تحفظ کا باہمی تعلق توڑنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے جو بڑھتی ہوئی بھوک کے نمایاں اسباب ہیں۔