فضلے کا خاتمہ ری سائیکلنگ سے ممکن، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ہر سال 2 ارب ٹن ٹھوس فضلہ زمین کو زہرآلود کر رہا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے دنیا کو پیداوار و صرف سے متعلق اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ہر سال 2 ارب ٹن ٹھوس فضلہ زمین کو زہرآلود کر رہا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے دنیا کو پیداوار و صرف سے متعلق اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔
آج 'ارتھ آور' پر دنیا بھر کے لوگ کچھ دیر روشنیاں گُل کر کے کرہ ارض کے ماحول کو تحفظ دینے کا عزم کر رہے ہیں۔ یہ سرگرمی زمین کو درپیش بحرانی صورتحال کے بارے میں آگاہی بیدار کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی دعوت پر ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار، کرہ ارض کے درجہ حرارت، سمندری حدت و تیزابیت اور سطح سمندر میں اضافے، گلیشیئروں کے پگھلاؤ اور برف کی تہہ میں کمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں مکمل تباہی کے 80 برس بعد بھی جوہری ہتھیار عالمی امن و سلامتی کے لیے واضح اور موجود خطرہ ہیں۔
انڈیا میں دو خواتین مٹی کے ذریعے 'پائیدار تعمیر' کو فروغ دے کر بیک وقت موسمیاتی مسائل میں کمی لانے اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔
اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی (یو این ای اے) کے اختتام پر ایک وزارتی اعلامیے سمیت 17 قراردادوں اور فیصلوں کی منظوری دے دی گئی ہے جن کا مقصد انسان اور فطرت کے مابین ہم آہنگی کو بحال کرنا اور لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانا ہے۔
اگر دنیا معدنی ایندھن کا استعمال ترک کر دے تو ہمیں کمیاب معدنیات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہو گی جو ونڈ ٹربائن اور سولر پلانٹ جیسے توانائی کے قابل تجدید ذرائع میں استعمال ہوتی ہیں۔
ہر دو برس کے بعد اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کرہ ارض کو درپیش اہم ماحولیاتی مسائل پر اکٹھے ہو کر بات چیت کرتے ہیں۔ اسے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی (یو این ای اے) کہا جاتا ہے جس کا چھٹا اجلاس 26 فروری سے کینیا میں شروع ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ ترقی پذیر ممالک کو ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے رہا ہے۔ مڈغاسکر میں ایسے ہی ایک امید افزا اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ ماحول دوست ذرائع سے بجلی پیدا کر کے لوگوں کی زندگیوں میں کس قدر بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔