قابل تجدید توانائی کے لیے موسمیاتی خدمات پر سرمایہ کاری ضروری
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کی جانب عالمگیر منتقلی کے لیے موسم اور موسمیاتی خدمات کے حوالے سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کی جانب عالمگیر منتقلی کے لیے موسم اور موسمیاتی خدمات کے حوالے سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔
کچرے کی آلودگی کے خلاف پہلے عالمی دن پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ہماری زمین واقعتاً کچرے میں غرق ہو رہی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ اسے صاف کیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ادارہ اقوام متحدہ کے زیرقیادت 'ون ہیلتھ' طریقہ کار پر عملدرآمد کے لیے مزید عالمگیر اقدامات کی وکالت کرتے ہوئے استوائی گنی اور تنزانیہ میں ماربرگ وائرس کی وباء پر قابو پانے میں مدد دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بدھ کو ایک قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری کے بعد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ممالک کی ذمہ داریوں پر عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے رائے لے گی۔
اقوام متحدہ کی 'آبی کانفرنس 2023' پانی سے متعلق عملی ایجنڈے کی منظوری کے ساتھ ختم ہو گئی ہے۔ یہ ایجنڈا ''سنگ میل'' کی حیثیت رکھنے والا عملی منصوبہ ہے جس میں ''انسانیت کے انتہائی قیمتی عالمگیر مشترکہ مفاد'' کے تحفظ کے لیے 700 وعدے شامل ہیں۔
تجارت اور ترقی کے بارے میں اقوام متحدہ کی کانفرنس (انکٹاڈ) نے کہا ہے کہ 2022 کی دوسری ششماہی کے دوران عالمگیر تجارت میں کمی آئی لیکن ماحول دوست اشیاء کی طلب بدستور مستحکم رہی۔
ہفتے کو منائے جانے والے موسمیات کے عالمی دن سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ انسانیت کو ایک ''تلخ حقیقت'' کا سامنا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث جاری تباہی ''ہماری زمین کو ناقابل رہائش بنا رہی ہے۔''
اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس 2023 میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ گلیشیئر ''زمین پر ہر طرح کی زندگی کے لیے بہت اہم'' ہیں۔ انہوں ںے خبردار کیا ہے کہ عالمی حدت کے نتیجے میں بڑھنے والی سطح سمندر کو پہلی حالت میں واپس نہ لایا گیا تو ''نتائج تباہ کن ہوں گے۔''
دنیا میں پانی کے قیمتی ذخائر کو ''شدید مسائل'' کا سامنا ہے اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، عالمی رہنما کثیرپہلو عالمی بحران کی صورت اختیار کر جانے والے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے رواں ہفتے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اجلاس کر رہے ہیں۔
بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے چھ ماہ بعد بھی متاثرہ علاقوں میں رہنے والے بچوں سمیت 10 ملین سے زیادہ لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔