ہجرتی پرندوں کے عالمی دن پر پانی کی اہمیت اجاگر
اِس سال یہ دن ''پانی: پرندوں کی زندگی قائم رکھنے کا ضامن'' کے موضوع کے تحت منایا جائے گا جس سے ہجرتی پرندوں اور ان کے مساکن کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
اِس سال یہ دن ''پانی: پرندوں کی زندگی قائم رکھنے کا ضامن'' کے موضوع کے تحت منایا جائے گا جس سے ہجرتی پرندوں اور ان کے مساکن کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے جمعے کا دن بنگلہ دیش اور میانمار میں لوگوں کے ساتھ مل کر سمندری طوفان موچا سے بچاؤ کی تیاری میں گزارا جو متوقع طور پر ہفتے کے آخر تک اس خطے سے ٹکرائے گا۔
اقوام متحدہ میں جنگلات کے بارے میں ہونے والے فورم میں 'دنیا بھر کے جنگلات کے پائیدار انتظام' کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے انتظام و دیکھ بھال کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ یو این او پی ایس جہاں پاکستان میں گزشتہ سال مون سون کی تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہے وہیں مستقبل میں موسمیاتی شدت کا مقابلہ کرنے والی عمارتوں کی تعمیر میں مدد کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔
ایشیا اور الکاہل کے لئے اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن (ای ایس سی اے پی) نے کہا ہے کہ دونوں خطوں کے بیشتر ممالک میں شدید موسمی حالات اور قدرتی آفات کا سامنا کرنے کی تیاری ناکافی ہے جبکہ ایسے واقعات کی شدت اور رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دنیا بھر کے 2,000 سے زیادہ مندوبین جینیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع ہوئے جنہوں ںے صحت اور ماحول پر سنگین اثرات مرتب کرنے والی کیمیائی آلودگی پر بہتر طور سے قابو پانے کے طریقوں پر تبادلہء خیال کیا۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ متواتر موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ برس دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ خشک سالی، سیلاب اور شدید گرمی کی لہریں دیکھنے میں آئیں جس سے لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کے لئے خطرات بڑھ گئے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتوں نے موجودہ ماحولیاتی پالیسیاں برقرار رکھیں تو اس صدی کے آخر تک عالمی حدت 2.8 سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جو انسانیت کے لیے ''سزائے موت'' کے متراف ہو گا۔
بچوں میں شدید غذائی قلت اور عالمی سطح پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پاکستان میں جان بچانے والے غذائی اقدامات میں مدد کے لیے اقوامِ متحدہ کے فلاحی فنڈ کے تحت 5.5 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ نے دنیا میں ترقی کے بڑھتے ہوئے تفاوت کو ختم کرنے، آب و ہوا میں بہتری لانےکے اہداف کو پورا کرنے اور 2030 کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے صنعتی شعبے میں ماحول دوست تبدیلیاں لانے پر زور دیا ہے۔