انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فلٹر کریں

موسم اور ماحول

سمندری طوفان موچا کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش میں کاکس بازار میں قائم یونیسف کے گودام میں ممکنہ متاثرین میں تقسیم کے لیےجیری کین اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
© UNICEF/Rashad Wajahat Lateef

یو این ادارے خلیج بنگال میں طوفان موچا کی تباہی کے لیے تیار

اقوام متحدہ کے اداروں نے جمعے کا دن بنگلہ دیش اور میانمار میں لوگوں کے ساتھ مل کر سمندری طوفان موچا سے بچاؤ کی تیاری میں گزارا جو متوقع طور پر ہفتے کے آخر تک اس خطے سے ٹکرائے گا۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب سے منہدم ہو جانے والی ایک عمارت۔
© UNOPS/Imran Karim Khattak

پاکستان سیلاب: قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے والی تعمیرات زیر غور

ترقیاتی منصوبوں کے انتظام و دیکھ بھال کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ یو این او پی ایس جہاں پاکستان میں گزشتہ سال مون سون کی تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہے وہیں مستقبل میں موسمیاتی شدت کا مقابلہ کرنے والی عمارتوں کی تعمیر میں مدد کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔

شدید موسمی حالات جیسا کہ خشک سالی کسانوں کے لیے معاشی نقصانات کا سبب بن رہے ہیں۔
UNDP Thailand

ایشیا و الکاہل موسمیاتی شدت سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں، یو این رپورٹ

ایشیا اور الکاہل کے لئے اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن (ای ایس سی اے پی) نے کہا ہے کہ دونوں خطوں کے بیشتر ممالک میں شدید موسمی حالات اور قدرتی آفات کا سامنا کرنے کی تیاری ناکافی ہے جبکہ ایسے واقعات کی شدت اور رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

معدنی ایندھن کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی انڈیا کے شہروں میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔
Unsplash/Hassan Afridhi

دنیا کیمیائی آلودگی کے خلاف مزید کارروائی کرے

دنیا بھر کے 2,000 سے زیادہ مندوبین جینیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع ہوئے جنہوں ںے صحت اور ماحول پر سنگین اثرات مرتب کرنے والی کیمیائی آلودگی پر بہتر طور سے قابو پانے کے طریقوں پر تبادلہء خیال کیا۔

کروشیا میں طوفان برق و باراں کے بادل۔
WMO/Šime Barešić

موسمیاتی تبدیلی کے انسانی، معاشی، اور ماحولیاتی نقصانات میں اضافہ

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ متواتر موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ برس دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ خشک سالی، سیلاب اور شدید گرمی کی لہریں دیکھنے میں آئیں جس سے لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کے لئے خطرات بڑھ گئے۔

سیکرٹری جنرل نے عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بڑی معیشتیں ہیں لیکن گرین ہاؤس گیسوں کی سب سے بڑی مقدار بھی آپ ہی خارج کرتے ہیں (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Manuel Elías

موجودہ ماحولیاتی حمکت عملیاں دنیا کے لیے سزائے موت: گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتوں نے موجودہ ماحولیاتی پالیسیاں برقرار رکھیں تو اس صدی کے آخر تک عالمی حدت 2.8 سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جو انسانیت کے لیے ''سزائے موت'' کے متراف ہو گا۔

ایک ہنگامی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 6 سے 23 ماہ عمر کے تقریباً ایک تہائی بچے درمیانی نوعیت کی شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 14 فیصد سنگین نوعیت کی شدید غذائی قلت میں مبتلا ہیں۔
Saiyna Bashir/UNICEF Pakistan

پاکستان سیلاب: غذائی قلت کا شکار بچوں کے لیے 5.5 ملین ڈالر مختص

بچوں میں شدید غذائی قلت اور عالمی سطح پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پاکستان میں جان بچانے والے غذائی اقدامات میں مدد کے لیے اقوامِ متحدہ کے فلاحی فنڈ کے تحت 5.5 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ اور دلی کے درمیان ایکسپریس وے پر کام شروع ہوچکا ہے۔
© ADB/Eric Sales

پائیدار ترقی کے لیے ماحول دوست صنعتی انقلاب ضرروی ہے

اقوام متحدہ نے دنیا میں ترقی کے بڑھتے ہوئے تفاوت کو ختم کرنے، آب و ہوا میں بہتری لانےکے اہداف کو پورا  کرنے اور 2030 کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے صنعتی شعبے میں ماحول دوست تبدیلیاں لانے پر زور دیا ہے۔