مشرق وسطیٰ: ڈبلیو ایچ او نظام صحت کو فعال رکھنے کی کوششوں میں مصروف
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) مشرق وسطیٰ میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں کو فعال رکھنے اور خصوصی علاج کے متقاضی مریضوں کو دوسرے ممالک میں بھیجنے کے اقدامات کر رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) مشرق وسطیٰ میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں کو فعال رکھنے اور خصوصی علاج کے متقاضی مریضوں کو دوسرے ممالک میں بھیجنے کے اقدامات کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ لبنان میں غذائی عدم تحفظ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے جہاں اسرائیل کے حملوں میں اب تک تین ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور تقریباً 14 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔
غذائی تحفظ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ کے متعدد علاقوں میں قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے جہاں اسرائیلی فوج کے محاصرے، بمباری اور زمینی حملوں کے باعث خوراک کی شدید قلت ہے اور کئی ہفتوں سے لوگ انسانی امداد سے محروم ہیں۔
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) نے اپنی چیک پوسٹ کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نقصان پہنچائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی کھلی پامالی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی حقوق کی ہولناک پامالیوں اور شہریوں پر ڈھائے جانے والے ممکنہ مظالم پر جواب طلبی ہونی چاہیے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا امدادی ادارہ (انروا) مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ہنگامی امداد پہنچانے کے ساتھ کئی طرح کی اہم خدمات بھی مہیا کرتا ہے۔ غزہ میں ایک سال سے جاری جنگ نے ان خدمات کی فراہمی کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے کہا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ادارے 'انروا' کی خدمات کو روکنا تباہ کن اور مسئلے کے دو ریاستی حل پر حملے کے مترادف ہو گا۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار فرانچسکا البانیز نے کہا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کو روکنے کے لیے رکن ممالک کو اسرائیل کے ساتھ معاشی، سیاسی اور عسکری تعلقات ختم کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ لبنان کی جنگ میں 3,000 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تعداد 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین 34 روزہ مسلح تنازع میں ہونے والی ہلاکتوں سے 58 فیصد زیادہ ہے۔
غزہ میں بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور انہیں جنم دینے والی ماؤں کی اموات میں اضافہ ہو گیا ہے جن کی بڑی تعداد کو زچگی میں کسی طرح کی طبی مدد میسر نہیں آتی۔