غزہ جنگ: یونیسکو بچوں کی ذہنی صحت بحال کرنے میں مصروف عمل
اقوام متحدہ کا تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ (یونیسکو) غزہ میں بچوں اور نوعمر افراد کی ذہنی صحت میں بہتری لانے کے لئے مختلف منصوبوں کے ذریعے انہیں نفسیاتی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کا تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ (یونیسکو) غزہ میں بچوں اور نوعمر افراد کی ذہنی صحت میں بہتری لانے کے لئے مختلف منصوبوں کے ذریعے انہیں نفسیاتی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن نے کہا ہے کہ ملک میں لوگوں کے لیے قابل قبول اور انہی کے زیرقیادت قابل بھروسہ، مشمولہ اور بلاتاخیر سیاسی تبدیلی ہی امن و استحکام کی ضامن ہے۔
غزہ میں 14 ماہ سے جاری جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ امدادی اداروں نے سکول میں قائم پناہ گاہ پر اسرائیل کے حملے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے بمباری کی نئی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن نے کہا ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ضرورت ہے جہاں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ بہتر مستقبل کی امیدوں کے ساتھ بہت سے خدشات بھی لایا ہے۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر شام کی مدد کے لیے زور دیا ہے جہاں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد سیاسی تبدیلی آ رہی ہے جبکہ ملک کو معاشی مسائل اور انسانی بحران کا سامنا ہے۔
غزہ میں ہولناک حالات اور ناقابل بیان تکالیف اب لوگوں کی روزمرہ زندگی کا معمول بن گئے ہیں جہاں اسرائیل کے تازہ ترین حملے میں بچوں سمیت 30 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے ایران میں متعارف کرائے جانے والے نئے قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت حجاب نہ اوڑھنے والی خواتین اور لڑکیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے شام میں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت ختم ہونے کے بعد اسرائیل کے سینکڑوں فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج گولان میں غیرفوجی علاقے کا قبضہ چھوڑ دے۔
مسلح گروہ ہیت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سب سے بااثر فریق کے طور پر ابھرا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔
غزہ کی پٹی میں ہولناک درجے کی تباہی پھیلی ہے جہاں شہریوں کو بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے امداد کی اشد ضرورت ہے جبکہ علاقے میں بڑے پیمانے پر قحط پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔