انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ

مشرق وسطی کی صورتحال پر جمعہ کو سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔
United Nations

سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پھر زیربحث

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ارکان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے تشدد پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل۔فلسطین تنازع پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اپنے دسویں ہنگامی سیشن کے پینتالیسویں اجلاس کے دوران ’شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی‘ کے حق میں قرارداد منظور کی ہے۔
UN News

غزہ میں فوری جنگ بندی پر جنرل اسمبلی میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو ہونے والے اپنے خصوصی ہنگامی اجلاس میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کے حق میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔

نومولود بچوں کو غزہ کے الشفاء ہسپتال سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Eyad El Baba

غزہ: زندگی بخش امداد پہنچانے پر ڈبلیو ایچ او نے کی قرارداد منظور

جنیوا میں اتوار کو منعقدہ ایک خصوصی ہنگامی اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایگزیکٹو بورڈ نے غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے۔

امریکہ کے نائب مستقل نمائندے رابرٹ اے وڈ نے کہا کہ ان کے ملک کی طرف سے پیش کی گئی تقریباً تمام سفارشات کو نظرانداز کر دیا گیا۔
UN Photo/Evan Schneider

غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ نے پھر ویٹو کردیا

مشرق وسطیٰ خاص طور پر غزہ کی پٹی میں انسانی بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعہ کو منعقد ہوا جس میں متحدہ عرب امارت کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی۔ قرارداد کے حق میں 13 ووٹ اور مخالفت میں 1 ووٹ پڑا جبکہ ایک رکن نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اطلاع کار جاوید رحمان کا کہنا ہے کہ مہاسا امینی کی ہلاکت کے بعد وہاں بہت سی خواتین اور لڑکیاں جابرانہ قوانین کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔
UN News

ایرانی حکومت انسانی حقوق پر عالمی قوانین تسلیم کرے، جاوید رحمان

ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار جاوید رحمان نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کا خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک صنفی عصبیت کے مترادف ہے۔