ترکیہ زلزلہ: دہشت کے 60 سیکنڈ کا آنکھوں دیکھا حال
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) کی ترجمان اولگا بورزینکووا نے ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد اپنے تجربات اور اِس وقت جاری ہنگامی امدادی اقدامات کی تفصیل بیان کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) کی ترجمان اولگا بورزینکووا نے ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد اپنے تجربات اور اِس وقت جاری ہنگامی امدادی اقدامات کی تفصیل بیان کی ہے۔
اقوام متحدہ کے امداد کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلوں سے تباہی کا حجم بتدریج سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے متاثرین کی تلاش اور انہیں بچانے کی کوششوں میں اضافے اور تمام ضرورت مندوں کو تحفظِ زندگی کے لیے امداد کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں سوموار کی صبح آنے والے بڑے زلزلے کے بعد انسانی بحران کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے امدادی ادارے تاحال ملبے تلے دبے لوگوں سمیت متاثرین کی مدد کے لیے کوشاں ہیں جن کی تعداد اطلاعات کے مطابق ہزاروں میں ہے۔
اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین تشدد بڑھ رہا ہے اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے رہنماؤں سے دہائیوں پرانے تنازعے کے حل کے لیے فوری کام کی اپیل کرتے ہوئے ''تناؤ میں غیرمعقول اضافہ'' ختم کرنے کو کہا ہے۔
قطر کی جانب سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کے خلاف نسلی امتیاز کی شکایات کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے ان تنازعات کے حل کے بعد اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔
سعودی حکام اور 'فلسطینی مہاجرین کی امداد اور ان کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے' (یو این آر ڈبلیو اے) کے مابین گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہونے والی بات چیت میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں روزگار مہیا کرنے کا موضوع نمایاں رہا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے اسرائیل اور فلسطین میں حالیہ دنوں بہت سے بچوں کے ہلاک و زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ تناؤ میں کمی لائیں اور تشدد سے پرہیز کریں۔
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی عہدیدار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران نو فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد خطے میں متواتر تشدد پر ''گہری تشویش اور دکھ'' کا اظہار کیا ہے۔
مشرق قریب میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور ان کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) نے اس سال اپنی بنیادی کارروائیوں کے لیے 1.6 ارب ڈالر مہیا کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس سے مدد وصول کرنے والے لوگوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔
لبنان میں 1.29 ملین مقامی لوگ اور 700,000 شامی پناہ گزینوں سمیت تقریباً دو ملین افراد ملک میں جاری متعدد بحرانوں کے باعث کسی نہ کسی طرح کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور آنے والے مہینوں میں یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔