شامی جنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار سیاسی حل کی ضرروت
شام کے تنازع کو 12 سال ہونے پر اقوام متحدہ کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے ملک میں جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
شام کے تنازع کو 12 سال ہونے پر اقوام متحدہ کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے ملک میں جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ماہرین نے شمال مغربی شام میں گزشتہ مہینے آںے والے تباہ کن زلزلوں سے متاثرہ لوگوں کو مدد کی فراہمی کے لیے شام کی حکومت اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے کردار کا انتہائی تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرینڈی نے شام اور ترکیہ کے پانچ روزہ دورے کے بعد وہاں حالیہ زلزلوں کے متاثرین کو بڑے پیمانے پر اور فوری عالمی امداد پہنچانے کی ضرورت کو واضح کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے سربراہ نے ترکیہ کے قدیم شہر انطاکیہ کے وسطی علاقے کا دورہ کیا اور عالمی برادری سے کہا کہ وہ گزشتہ مہینے آنے والے تباہ کن زلزلوں کے لاکھوں متاثرین کو امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ''اپنی کوششوں میں اضافہ کرے''۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان دو ماہ کے اندر سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ معاہدے کا اعلان جمعہ کو سعودی عرب، ایران، اور چین نے بیجنگ سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ ترکیہ اور شام میں آنے والے دو تباہ کن زلزلوں سے ایک ماہ بعد 850,000 سے زیادہ بچے اپنے ٹوٹے پھوٹے یا تباہ شدہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے کے بعد بدستور بے خانماں ہیں اور لاکھوں لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عراق کی جانب سے اپنے شہریوں کو شمال مغربی شام کے کیمپوں سے واپس بلانے کی ستائش کرتے ہوئے دیگر حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھی 'ذمہ داری لیں اور عملی قدم اٹھائیں'۔ ان کیمپوں میں رکھے گئے لوگوں پر داعش سے تعلق کا شبہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش چھ سال میں پہلی مرتبہ عراق کا دورہ کر رہے ہیں جہاں انہوں نے ملک کے لوگوں، نئی حکومت اور اس کے پرعزم اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ 6 فروری کو آنے والے زلزلوں کے بعد شام کی بھرپور مدد کی جائے جن کے باعث وہاں 12 سال سے جاری ظالمانہ خانہ جنگی کے نتیجے میں پہلے سے ہی خراب صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین تشدد کی نئی لہر کے بعد مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے ٹور وینزلینڈ نے دونوں فریقین سے ان بنیادی مسائل پر قابو پانے کی اپیل کی ہے جو ان کے تنازعے کو ہوا دے رہے ہیں۔