عالمی شہر کاری فورم: جنگ زدہ علاقوں میں بحالی کی کوششوں پر زور
مصر میں جاری 'عالمی شہری فورم' میں جنگ زدہ گنجان آباد علاقوں میں لوگوں کو تحفظ، رہائش اور بنیادی خدمات کی فراہمی اور تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی بحالی کے لیے منظم کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔
مصر میں جاری 'عالمی شہری فورم' میں جنگ زدہ گنجان آباد علاقوں میں لوگوں کو تحفظ، رہائش اور بنیادی خدمات کی فراہمی اور تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی بحالی کے لیے منظم کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔
دنیا اس وقت غیر معمولی حرارت کا سامنا کر رہی ہے اور اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ سال 2024 گزشتہ سال کے ریکارڈ کو توڑ کر دنیا کے لئے گرم ترین سال بن جائے۔ یہ نئے اعداد و شمار عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے COP29 کانفرنس سے قبل جاری کئے ہیں جو باکو آذربائیجان میں منعقد ہو رہی ہے۔
سات نومبر کو سکولوں میں ہراسانی اور تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ برائے سائنس، تعلیم اور ثقافت (یونیسکو) نے تعلیمی اداروں میں طلبا کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی ڈھانچے کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ طلبا کو جسمانی، زبانی اور نفسیاتی تشدد سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔
دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک نے بچوں کو ہر طرح کے تشدد، استحصال اور بدسلوکی سے تحفظ فراہم کرنے اور انہیں جسمانی سزائیں دینے پر پابندی کا عزم کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کے ماحول، لوگوں کی زندگی اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ممالک کو اس سے مطابقت اختیار کرنے کے لیے بہرصورت ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے نقل مکانی پر مجبور لوگوں کے لیے عالمی برادری سے ہنگامی بنیادوں پر مدد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے جن کی تعداد لبنان، سوڈان اور دیگر جگہوں پر جاری جنگوں کے باعث 12 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جاری عالمی شہر کاری فورم کے شرکا نے شہری منصوبہ بندی میں خواتین اور لڑکیوں کی بامعنی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ شہر سبھی کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ سپین میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب نے موسمی شدت کے واقعات سے بروقت خبردار کرنے کی ضرورت کو دوچند کر دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تواتر سے خطرناک بیماریاں پھیلانے والے 17 اقسام کے ایسے بیکٹیریا، وائرس اور طفیلیوں کی نشاندہی کی ہے جن کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر ویکسین تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا کی دو ارب سے زیادہ آبادی ایسے شہروں میں رہتی ہے جہاں 2040 تک درجہ حرارت میں 0.5 ڈگری سیلسیئس تک اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کا نتیجہ تباہ کن موسمی آفات کی صورت میں سامنے آئے گا۔