انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عالمی

غزہ کے علاقے خان یونس میں وسیع پیمانے پر تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔
© UNOCHA/Themba Linden

تیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کو آنے والے سال مدد کی ضرورت ہوگی، ٹام فلیچر

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کے نئے سربراہ ٹام فلیچر نے بدھ کو خبردار کیا ہے کہ دنیا میں متعدد نہ ختم ہونے والے تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزیوں کی وجہ سے آئندہ سال 30 کروڑ سے زائد افراد کو اپنی زندگیاں بچانے کے لئے امداد کی ضرورت ہوگی۔

پاکستان سے واپس آنے والے افغان پناہ گزینوں کو ننگرہار میں نقد مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
© WFP/Philippe Kropf

اگلے سال پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ابتدائی طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر جمع

دنیا میں نقل مکانی پر مجبور لوگوں کی تعداد 12 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ تحفظ کی تلاش میں ہجرت کرنے والوں کی مدد کے لیے اسے آئندہ سال کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے امدادی وسائل دستیاب ہو چکے ہیں۔

ارجنٹائن میں نوجوانوں کے موسم و ماحولیاتی تحفظ سے متعلق گروپ کے ارکان۔
© UNICEF/Sebastian x Gil

امن کوششوں میں نوجوان خواتین کو مرکزی اہمیت دی جائے، ڈی کارلو

قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا ہے کہ دنیا میں امن کو خطرات لاحق ہیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے، تاہم نوجوان خواتین ثابت کر رہی ہیں کہ بہتر دنیا بھی ممکن ہے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والی ذکیہ خدادادی نے پیرس پیرالمپکس میں حصہ لیا تھا۔
© IPC

فیصلہ سازی میں معذور افراد کی بامعنی شراکت ضروری، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمی مسائل پر قابو پانے میں جسمانی معذور افراد کے قائدانہ کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی اور فیصلہ سازی کے لیے ان لوگوں کی آراء سننا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔

تصادم اور عدم استحکام والے علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر تشدد کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
© UNICEF/Josué Mulala

دنیا کی ہر تیسری خاتون یا لڑکی کو جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا، رپورٹ

ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً 73 کروڑ خواتین اپنے شوہر یا کسی اور مرد کے ہاتھوں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار بنائی جا چکی ہیں۔ یہ دنیا بھر میں 15 سال سے زیادہ عمر والی خواتین و لڑکیوں کا 30 فیصد حصہ ہے۔