انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عالمی

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش کانفرنس برائے مستقبل کے دوسرے روز کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe

کانفرنس برائے مستقبل میں نئے اور بیباک خیالات کا راج

اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر مستقبل کی کانفرنس سے قبل ہونے والے اجلاس کے دوسرے روز نوجوان رہنماؤں نے دنیا کو تمام لوگوں کے لیے بہتر، محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔

کانفرنس برائے مستبقل کے شرکاء جنرل اسمبلی ہال میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔
UN Photo/Manuel Elías

مستقبل پر یو این کانفرنس میں نوجوان اور ان کے خیالات مرکز توجہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کانفرنس برائے مستقبل سے قبل عالمی مسائل پر غورخوض کے لیے ہونے والے اجلاس کے پہلے روز نوجوانوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی جنہوں نے صنفی مسائل، موسمیاتی بحران، امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پائیدار ترقی کے اہداف کے رنگوں کی مناسبت سے یہ پویلین بھی بنایا گیا تھا۔
© Partnerships Office/Patrick M

دنیا کو بحرانوں کا سامنا لیکن یو این ان سے نمٹنے کے لیے پرعزم، گوتیرش

بڑھتی ہوئی غربت سے لے کر بدترین صورت اختیار کرتے موسمیاتی بحران تک ہر طرح کے مسائل کی موجودگی میں اقوام متحدہ امن و پائیدار ترقی کے فروغ اور انسانی مصائب کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Cia Pak

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ عام مباحثہ کیا ہے؟

نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں یہ مصروف ترین اور غالباً اہم ترین ہفتہ ہے جہاں دنیا بھر کے رہنما عالمی مسائل پر بات چیت کرنے یا اپنے ممالک کی مخصوص ترجیحات کو واضح کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے پہلے پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten

آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے ’مستقبل کی کانفرنس‘ اہم، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ اور نئے عالمی مسائل پر قابو پانے اور پرانے ہو چکے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے 'مستقبل کی کانفرنس' سے فائدہ اٹھائیں۔

میکیسکو میں سرکاری طور پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو 1964 سے لیکر اب تک لاپتہ قرار دیا جا چکا ہے۔
© ICRC/Afilms

جبری گمشدگیاں خوف کا سبب اور جمہوریت کے لیے خطرہ، ماہرین

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے کہا ہے کہ انتخابات کے تناظر میں جبری گمشدگیاں معاشرے میں جبر اور خوف کا ماحول پیدا کرتی ہیں اور انتخابی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

اوزون کی تہہ ماحول کے تحفظ میں اہم ہے۔
UN Photo/R. Kollar

موسمیاتی تبدیلی: اوزون تہہ مکمل بحالی کے راستے پر گامزن

عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ کرہ ارض کے گرد اوزون گیس کی تہہ طویل مدتی بحالی کی جانب درست سمت میں گامزن ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن 77 کے موقع پر برازیل کے مشہور فنکار ایڈوارڈو کوبرا نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کی دیوار پر یہ میورل بنایا تھا۔
UN Photo/Rick Bajornas

یو این کانفرنس برائے مستقبل کے بارے میں جاننے کے پانچ اہم نقاط

کیا دنیا کا انتظام کسی اور انداز میں بھی چلایا جا سکتا ہے؟ اس قدر عالمی ابتری کے دور میں ہم مستقبل کو منصفانہ کیسے بنا سکتے ہیں؟ حالیہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے ایک بڑے اجلاس کو عالمی برادری کے لیے ان سوالات کے جواب ڈھونڈںے اور تمام انسانوں کے فائدے کی خاطر ایک نیا راستہ تشکیل دینے کا نادر موقع قرار دیا گیا ہے۔

گوئٹے مالا میں دو بچے موبائل پر دلچسپی کے ساتھ کچھ دیکھ رہے ہیں جبکہ ان کے والدین آن لائن سکیورٹی پر کورس میں شریک ہیں (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Patricia Willocq

بچوں کو آن لائن ہراسانی سے بچانے کے لیے یو این ادارے متحرک

زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن رہنے والے بچوں کی تعداد سال بہ سال بڑھتی جا رہی ہے جس کے ساتھ انہیں نفرت پر مبنی اظہار اور پُرتشدد مواد سے واسطہ پڑنے کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور وہ سائبر غنڈہ گردی اور ہراسانی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

دنیا میں 94 فیصد قیدی مرد ہیں جن کی تعداد دو سال پہلے ایک کروڑ آٹھ لاکھ تھی۔
Arie Basuki

وباء کے بعد دنیا بھر میں جیلوں کی آبادی میں اضافہ، 94 فیصد قیدی مرد

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ کووڈ۔19 کے بعد دنیا بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ بہت سی جگہوں پر خواتین ملزموں کو قانونی کارروائی سے پہلے ہی قید میں ڈالے جانے کے خطرات مردوں سے کہیں زیادہ ہیں۔