کانفرنس برائے مستقبل میں نئے اور بیباک خیالات کا راج
اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر مستقبل کی کانفرنس سے قبل ہونے والے اجلاس کے دوسرے روز نوجوان رہنماؤں نے دنیا کو تمام لوگوں کے لیے بہتر، محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔
اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر مستقبل کی کانفرنس سے قبل ہونے والے اجلاس کے دوسرے روز نوجوان رہنماؤں نے دنیا کو تمام لوگوں کے لیے بہتر، محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کانفرنس برائے مستقبل سے قبل عالمی مسائل پر غورخوض کے لیے ہونے والے اجلاس کے پہلے روز نوجوانوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی جنہوں نے صنفی مسائل، موسمیاتی بحران، امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
بڑھتی ہوئی غربت سے لے کر بدترین صورت اختیار کرتے موسمیاتی بحران تک ہر طرح کے مسائل کی موجودگی میں اقوام متحدہ امن و پائیدار ترقی کے فروغ اور انسانی مصائب کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں یہ مصروف ترین اور غالباً اہم ترین ہفتہ ہے جہاں دنیا بھر کے رہنما عالمی مسائل پر بات چیت کرنے یا اپنے ممالک کی مخصوص ترجیحات کو واضح کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ اور نئے عالمی مسائل پر قابو پانے اور پرانے ہو چکے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے 'مستقبل کی کانفرنس' سے فائدہ اٹھائیں۔
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے کہا ہے کہ انتخابات کے تناظر میں جبری گمشدگیاں معاشرے میں جبر اور خوف کا ماحول پیدا کرتی ہیں اور انتخابی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ کرہ ارض کے گرد اوزون گیس کی تہہ طویل مدتی بحالی کی جانب درست سمت میں گامزن ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
کیا دنیا کا انتظام کسی اور انداز میں بھی چلایا جا سکتا ہے؟ اس قدر عالمی ابتری کے دور میں ہم مستقبل کو منصفانہ کیسے بنا سکتے ہیں؟ حالیہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے ایک بڑے اجلاس کو عالمی برادری کے لیے ان سوالات کے جواب ڈھونڈںے اور تمام انسانوں کے فائدے کی خاطر ایک نیا راستہ تشکیل دینے کا نادر موقع قرار دیا گیا ہے۔
زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن رہنے والے بچوں کی تعداد سال بہ سال بڑھتی جا رہی ہے جس کے ساتھ انہیں نفرت پر مبنی اظہار اور پُرتشدد مواد سے واسطہ پڑنے کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور وہ سائبر غنڈہ گردی اور ہراسانی کا نشانہ بن رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ کووڈ۔19 کے بعد دنیا بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ بہت سی جگہوں پر خواتین ملزموں کو قانونی کارروائی سے پہلے ہی قید میں ڈالے جانے کے خطرات مردوں سے کہیں زیادہ ہیں۔