غربت اور بے گھری کو جرم بنانے والے قوانین کے خاتمے کا مطالبہ
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے ظالمانہ اور فائدے کے بجائے نقصان دہ قوانین کو ختم کریں جو بے گھری اور غربت کو جرم بناتے ہیں۔
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے ظالمانہ اور فائدے کے بجائے نقصان دہ قوانین کو ختم کریں جو بے گھری اور غربت کو جرم بناتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا میں ہر سال شراب نوشی سے 26 لاکھ اور منشیات کے استعمال سے 6 لاکھ اموات ہوتی ہیں جن میں بڑی تعداد مردوں کی ہے۔
تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیرانسانی یا توہین آمیز سلوک یا سزا پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ایلس جل ایڈورڈز نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی برطانیہ میں قید سے رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں غیرسیرشدہ چکنائی والی خوراک کے استعمال میں کمی آ رہی ہے اور گزشتہ سال 53 ممالک نے اس خوراک کے استعمال میں کمی لانے کی موثر پالیسیاں بنا لی تھیں۔
حقِ تعلیم پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار فریدہ شہید نےکہا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں تعلیمی آزادی کو جبر کا سامنا ہے۔ رائے عامہ کو قابو میں لانے کے لیے عائد کردہ پابندیوں سے آزاد سوچ کو نقصان پہنچتا ہے اور تعلیمی و سائنسی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔
رواں سال دنیا میں دو ارب لوگ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں لیکن ضروری نہیں کہ منتخب حکومتیں ان کی رائے پر لازمی دھیان دیں گی۔ آمریتوں، جبر اور گمراہ کن اطلاعات کے ماحول میں اقوام متحدہ مشمولہ اور جوابدہ حکمرانی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو انسانی حقوق مضبوطی سے برقرار رکھتے ہوئے آن لائن نفرت اور جھوٹ کے پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان پر قابو پانا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ یوگا لوگوں اور معاشروں کو جسمانی و ذہنی طور پر متحرک اور فعال بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اسی لیے سبھی کو اس کی لازوال اقدار اور پرامن و ہم آہنگ مستقبل کی پکار سے تحریک لینی چاہیے۔
خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ریم السالم نے کہا ہے کہ جسم فروشی کو تشدد، استحصال اور بدسلوکی کا نظام سمجھا جانا چاہیے جس سے خواتین اور لڑکیاں غربت کا شکار اور ترقی سے محروم ہو جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے تجارتی و ترقیاتی ادارے (انکٹاڈ) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دنیا میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری دو فیصد کم ہو کر 1.3 ٹریلین ڈالر رہ گئی تھی اور ناکافی مالی وسائل کے باعث پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 کے حصول میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔