عالمی تجارت ایک بار پھر بہتری کی طرف گامزن، انکٹاڈ
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی (انکٹاڈ)کے تازہ ترین عالمی جائزے کے مطابق کئی سہ ماہیوں کی سست روی کے بعد عالمی تجارت 2024 کے باقی عرصہ میں بہتری کی طرف مائل نظر آ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی (انکٹاڈ)کے تازہ ترین عالمی جائزے کے مطابق کئی سہ ماہیوں کی سست روی کے بعد عالمی تجارت 2024 کے باقی عرصہ میں بہتری کی طرف مائل نظر آ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ نسل پرستی کا خاتمہ کرنے کے لیے حکومتوں کو اس کے خلاف پالیسیاں بنانا ہوں گی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت میں نسلی تعصب سے نمٹنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔
اسلامی تعاون تنظیم کے 'اسلامک یوتھ کوآپریشن فورم' کی مشیر اعلیٰ ڈاکٹر فدیلہ قرین نے کہا ہے کہ مسلمانوں سے نفرت (اسلامو فوبیا) گھناؤنا فعل ہے جس سے ہر ایک کو نقصان ہوتا ہے لیکن مسلمان خواتین پر اس کے اثرات مردوں کی نسبت زیادہ شدید ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ جبری مشقت پر مجبور ہیں اور اس غیرقانونی عمل میں ملوث عناصر کو سالانہ 236 ارب ڈالر آمدنی ہوتی ہے جو ایک دہائی پہلے 64 ارب ڈالر تھی۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار، کرہ ارض کے درجہ حرارت، سمندری حدت و تیزابیت اور سطح سمندر میں اضافے، گلیشیئروں کے پگھلاؤ اور برف کی تہہ میں کمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔
جنگ زدہ علاقوں میں تشویشناک حد تک بڑھتی بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی شدت سے پیدا ہونے والے ممکنہ قحط پر دنیا کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زیرنظر سطور سے واضح ہوتا ہے کہ قحط کیسے اور کب رونما ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ تپ دق (ٹی بی) اب بھی ہر سال 13 لاکھ جانیں لے رہی ہے جس کی روک تھام کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں اضافہ کرنا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں مکمل تباہی کے 80 برس بعد بھی جوہری ہتھیار عالمی امن و سلامتی کے لیے واضح اور موجود خطرہ ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں دنیا کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متفقہ اقدامات کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے منشیات کے پھیلاؤ کی روک تھام اور ان کا استعمال کرنے والوں کے لیے علاج کے اقدامات کو وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے لوگوں سے وابستہ بدنامی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہونا چاہیے۔