کووڈ۔19 کے مریضوں کو ہسپتال رکھنے پر نیا ہدایت نامہ جاری
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کووڈ۔19 کے علاج سے متعلق اپنی تازہ ترین رہنمائی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جن مریضوں میں اس بیماری کی شدت کم ہو انہیں ہسپتال داخل ہونے کی ضرورت نہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کووڈ۔19 کے علاج سے متعلق اپنی تازہ ترین رہنمائی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جن مریضوں میں اس بیماری کی شدت کم ہو انہیں ہسپتال داخل ہونے کی ضرورت نہیں۔
غریب بچوں کو مفت تعلیم دینے والی پاکستان کی خاتون استاد سسٹر زیف کو دنیا کے باوقار اعزاز ’گلوبل ٹیچر پرائز 2023‘ کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے روشن مستقبل میں اساتذہ کے اہم کردار کی نمایاں مثال ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے کینسر سے متعلق تحقیقی ادارے 'آئی اے آر سی' نے بتایا ہے کہ چھاتی کے کینسر کی بروقت نشاندہی کا بڑی حد تک تعین اس بات سے ہوتا ہےکہ مریض کہاں رہتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے لیے پانچ ججوں کا انتخاب کیا ہے جو آئندہ نو سال تک فرائض انجام دیں گے۔
اکتوبر نے بلند درجہ حرارت کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں جس کے بعد 2023 تقریباً یقینی طور پر معلوم تاریخ کا گرم ترین سال ہو گا۔ درجہ حرارت میں یہ اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے کیونکہ گرمی میں اضافے کا باعث بننے والے ال نینو اثرات آئندہ برس بھی برقرار رہیں گے۔
اقوام متحدہ کےا دارہ ماحولیات (یو این ای پی) نے بتایا ہے کہ معدنی ایندھن کی پیداوار میں کمی لانے کے وعدوں کے باوجود دنیا بھر میں حکومتی پالیسیوں کے باعت 2030 میں یہ پیداوار اور بھی بڑھ جائے گی جس کے انسانوں اور زمین پر بدترین اثرات ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) نے کہا ہے کہ کم ترین ترقی یافتہ ممالک کو بڑھتے ہوئے قرض اور مالی وسائل کی کمی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد نہ دی گئی تو وہاں رہنے والے 800 ملین لوگوں کی زندگی میں مزید بگاڑ آنے کا اندیشہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کے باعث تپ دق (ٹی بی) کے خلاف اقدامات بحال ہو رہے ہیں تاہم بیماری کا خاتمہ کرنے کے لیے مزید کوششیں درکار ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ اگرچہ زرعی خوراک کے موجودہ نظام غذائیت فراہم کرتے اور معیشت کو مستحکم رکھتے ہیں، تاہم ان سے صحت اور ماحول کو سالانہ 10 ٹریلین ڈالر کا نقصان بھی ہوتا ہے۔
جمعے کو محفوظ حیاتیاتی کروں کا عالمی دن منایا گیا اور اس موقع پر شہروں سے لے کر گھاس کے وسیع میدانوں اور پہاڑی چوٹیوں سے ساحلی جنگلات تک دنیا میں ایسے 748 مقامات کے تنوع اور ماحول دوست عالمی مستقبل میں ان کے کردار کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا۔