انسانی حقوق کونسل کا بچوں پر آن لائن بدسلوکی کے اثرات کا جائزہ
بچوں کے ساتھ آن لائن بدسلوکی کا نتیجہ اندیشے اور جذباتی پریشانی کی صورت میں نکلتا ہے اور ایسے واقعات کے متاثرین خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ آن لائن بدسلوکی کا نتیجہ اندیشے اور جذباتی پریشانی کی صورت میں نکلتا ہے اور ایسے واقعات کے متاثرین خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ عام مباحثہ منگل کو ختم ہوا۔ اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے کہا کہ ادارہ جاتی مسائل کے باجود اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشکلات کا اجتماعی حل نکالنے کے لیے اہم ترین پلیٹ فارم ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین نے 2030 تک تپ دق (ٹی بی) کا خاتمہ کرنے کی کوششیں آگے بڑھانے کے لیے اعلامیے کی منظوری دے دی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے موثر سفارت کاری کا خاتمہ ہو جانے سے متعلق اندازوں کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔
امن کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں تناؤ اور تنازعات کا خاتمہ کرنے کے لیے سفارت کاری، بات چیت اور تعاون کے کارآمد ذرائع سے کام لینا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش خبردار کیا ہے کہ دنیا غیر مستحکم ہو رہی ہے جبکہ بہت زیادہ خطرے اور بہت کم اتفاق رائے کے وقت عالمگیر بحران کو حل کرنا ہی اقوام متحدہ کا مقصد ہے۔
کرہ ارض کو تحفظ دینے کے اقدامات کی رفتار تیز ہونے کو ہے جب دنیا بھر کے رہنما، بڑے کاروبار اور ماہرین موسمیاتی عزم سے متعلق کانفرنس کے لیے 20 ستمبر کو اکٹھے ہو رہے ہیں۔
دنیا کے کئی نمایاں رہنما آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے جبکہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں خاص طور پر پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت کے لیے کیا طے پاتا ہے۔
یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ کہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی شرکت یا عدم شرکت سے زیادہ اہم یہ یقینی بنانا ہے کہ رکن ممالک کے نمائندے پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق ضروری وعدے کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ بدقسمتی سے ان اہداف کی جانب درست سمت میں پیش رفت نہ ہونا ایک حقیقت ہے۔
عملی میدان میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے کام کرتے ہوئے اور مستقبل پر توجہ مرکوز کر کے اقوام متحدہ کے لوگ اپنے ہاں ترتیب نو میں مصروف ہیں جس کی بدولت اس کے ادارے مزید مستعد، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اور پُراثر ہو جائیں گے۔