یوکرین جنگ ختم کرنے کے مطالبے کی بازگشت سلامتی کونسل میں بھی سُنی گئی
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کئی محاذوں پر فوری اقدامات کے لیے کہتے ہوئے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ یوکرین میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کئی محاذوں پر فوری اقدامات کے لیے کہتے ہوئے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ یوکرین میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
24 فروری 2022 کو روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد پورا سال یوکرین کے لوگوں نے خود کو مضبوط ثابت کیا ہے لیکن ''انسانی امداد کی ضرورت پہلے کی طرح برقرار ہے۔''یہ بات یوکرین میں اقوام متحدہ کی مقامی اور امدادی رابطہ کار ڈینیس براؤن نے کہی ہے جو ملک میں ادارے کی اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں۔
گزشتہ سال 24 فروری سے یوکرین کے خلاف روس کی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے ایک سال کے عرصہ میں 80 لاکھ لوگ دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، 50 لاکھ افراد اندرون ملک دربدری کا شکار ہیں جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کا انحصار امدادی سامان پر ہے۔ اس ایک سال میں محاذ جنگ اور سفارتی سطح پر کیا ہوتا رہا، دیکھیے اس مختصر وڈیو میں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے کہا ہے اور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی مطابقت سے فوری طور پر اپنی فوج ملک سے واپس بلائے۔
یوکرین میں جنگ کا ایک سال مکمل ہوا چاہتا ہے اور بدھ کو مشرقی شہر خارکیئو پر نئے میزائل حملوں کے بعد اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے اعلیٰ سطحی ماہرین نے پُرزور اپیل کی ہے کہ روسی افواج ملک کے ثقافتی خزانوں کو جان بوجھ کر تباہ کرنا بند کریں۔
یوکرین پر روس کے حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اس جنگ میں اب تک بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق پریشان کن ثبوت پیش کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی شعبے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں امدادی ضروریات بڑھنے کے ساتھ جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور ان ضرورتوں کے دیگر محرکات پر قابو پانے کے لیے سیاسی ارادے اور مالی وسائل کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ اگرچہ یوکرین کی جنگ کے پرُ امن حل کی اشد ضرورت ہے تاہم اس حوالے سے کوئی بھی معاہدہ واضح اور قابل عمل ہونا چاہیے جس سے اس تنازعے کی بنیادی وجوہات پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔
یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر کیے گئے حملے کے تقریباً ایک سال بعد اقوام متحدہ نے اس جنگ زدہ ملک کے اندر اور باہر لاکھوں متاثرین کی مدد کے لیے 5.6 بلین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک غیرجانبدار ماہر نے سسلی میں متعدد غیرسرکاری تنظیموں کے عملے کے خلاف ایک مقدمہ شروع ہونے سے پہلے کہا ہے کہ سمندر میں لوگوں کو بچانے کا کام کرنے والے امدادی اداروں کے کارکنوں کو مجرم قرار نہ دیا جائے۔