بنگلہ دیش جذام پر غیر معتصبانہ قانون سازی کرے، انسانی حقوق ماہرین
انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک غیرجانبدار ماہر نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ وہ جذام سے متاثرہ افراد کو بہتر طور سے تحفظ دینے کے لیے قوانین بنائے۔
انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک غیرجانبدار ماہر نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ وہ جذام سے متاثرہ افراد کو بہتر طور سے تحفظ دینے کے لیے قوانین بنائے۔
میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہر نے کہا ہےکہ عالمی برادری ملک کی فوجی حکومت کو قانونی تسلیم کرنے سے انکار کرے۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سمندر اور خشکی کے راستے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں آ رہی ہے۔ ادارے نے خطے میں روہنگیا پناہ گزینوں کی مدد کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے زیرقیادت امداد دہندگان کے ایک گروپ نے امید ظاہر کی ہے کہ طالبان افغان خواتین کو ایک مرتبہ پھر غیرسرکاری اداروں (این جی اوز) کے ساتھ کام کی اجازت دیں گے جس پر گزشتہ مہینے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دوسرے اعلیٰ سطحی حکام نے پاکستان کے شہر پشاور میں ہونے والے خودکش حملے کی کڑی مذمت کی ہے جس میں کم از کم 59 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہو گئے تھے۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ میانمار میں منتخب جمہوری حکومت کے خلاف ظالمانہ فوجی بغاوت سے قریباً دو سال بعد ملک مزید بحران کا شکار ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے مختلف براعظموں کے دو ہفتے پر مشتمل دورے سے واپسی پر کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد میں ''متحدہ کاوشیں'' کرنا ہوں گی۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل اور یو این ویمن کی سربراہ نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی بہتری کو مقدم رکھے اور خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پالیسیوں کو ختم کرے جن سے وہ گھروں تک محدود ہیں ہیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ چین اپنے ہر معمر شہری کو کووڈ۔19 کے خلاف ویکسین لگانے کے لیے ''غیرمعمولی پیش رفت اور کوشش کر رہا ہے'' تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تمام لوگوں کو اس بیماری سے تحفظ دینے میں وقت لگے گا۔
افغانستان میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے متعین کردہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ختم ہوتی قانون کی حکمرانی اور عدالتی آزادی ''انسانی حقوق کی تباہی'' ہے۔