انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایشیا پیسیفک

حالیہ دنوں میں سری لنکا اور انڈونیشیا نے سمندر میں پھنسے روہنگیا پناہ گزینوں کو بحفاظت ساحل تک پہنچایا۔
© UNICEF/Patrick Brown

سمندروں میں بھٹکتے روہنگیا افراد کے تحفظ کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے محفوظ پناہ کے لیے جان کا خطرہ مول لے کر خطرناک سمندری سفر اختیار کرنے والے ہزاروں بے آسرا روہنگیا باشندوں کو تحفظ دینے کے لیے علاقائی سطح پر مربوط طریق کار وضع کرنے کے لیے کہا ہے۔

قندھار میں پولیو کے خلاف مہم کے دوران ہیلتھ ورکر بچوں کو ویکسین لگا رہی ہیں۔
© UNICEF/Frank Dejongh

افغانستان: این جی اوز میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی کی ہمہ گیر مذمت

اقوام متحدہ کے اداروں کے اعلیٰ حکام اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے سربراہوں نے مشترکہ طور پر افغانستان کے حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ وہ امداد مہیا کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے لیے کام کرنے والی خواتین پر اپنی پابندی واپس لیں۔

خواتین کے این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی سے وہ خود اور ان کے اہلخانہ آمدنی سے محروم ہو جائیں گے۔
UNAMA/Fraidoon Poya

افغانستان میں خواتین کے خلاف تباہ کن قوانین ختم ہونے چاہیں: وولکر ترک

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نےکہا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے نقصان دہ پالیسیوں کے ان کی زندگی پر ''مسلسل خوفناک اثرات'' مرتب ہو رہے ہیں اور ان سے معاشرے کو عدم استحکام کا خطرہ ہے۔

یہ لوگ ایک مہینے سے علاقائی پانیوں میں بھٹکتے رہنے کے بعد کمزوری سے نڈھال اور پانی کی کمی کا شکار تھے (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Patrick Brown

سمندر میں بے یارومدگار لوگوں کی مدد پر انڈونیشیا کی تعریف

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین 'یو این ایچ سی آر' نے سمندر میں بھٹکتے 200 سے زیادہ بے آسرا لوگوں کو گزشتہ چند روز کے دوران شمال مغربی انڈونیشیا کے ساحل پر بحفاظت اتارے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

 نومبر 2020 میں افغانستان کے صوبہ پروان میں ہیلتھ ورکر ایک بچے کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے حالیہ دنوں میں خواتین کے حقوق پر کئی قدغنیں لگائی ہیں۔
© WFP/ Massoud Hossaini

خواتین پر این جی اوز کے لیے کام کرنے پر طالبان کی پابندی پر تشویش

طالبان کی جانب سے خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کے لیے کام سے روکے جانے کی اطلاع پر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ افغانستان میں کمزور طبقات خصوصاً خواتین کی مدد کے لیے بہت سے اداروں کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

روہنگیا مہاجرین خلیج بنگال کے راستے بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار پہنچ رہے ہیں۔
© UNICEF/Patrick Brown

بحیرہِ انڈیمان میں پھنسے 190 افراد کو بچانے کی اپیل

بحیرہ انڈیمان اور خلیج بنگال کے درمیان 190 لوگ ایک کشتی پر بھٹک رہے ہیں جنہیں بچانے اور بحفاظت ساحل پر لانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس کشتی پر 20 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرین اکٹھے ہیں۔
Unsplash/Gayatri Malhotra

میانمار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل کی قرارداد ’کمزور‘

میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ انسانی حقوق کے ایک غیرجانبدار ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اگر رکن ممالک نے ''مضبوط اور مربوط قدم'' نہ اٹھایا تو ملک میں خونریزی بدترین صورت اختیار کر جائے گی۔

افغان طالبات ہرات میں یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب میں حصہ لیتے ہوئے (فائل فوٹو)۔
UNAMA/Fraidoon Poya

خواتین کی تعلیم پر طالبان کی پابندیاں عالمی قوانین کی ’کُھلی خلاف ورزی‘

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے کمشنر وولکر ترک نے افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی طرف سے خواتین پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنے کے فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔